علم اور صاحبِ علم کتاب علم کا مَدفَن ہے اور علم کا مَخرج نگاہ ہے

اسپیشل فیچر (تحریر : قاسم علی شاہ) کسی زمانے میں عروج حاصل کرنے والا خاص موبائل اب ناپید ہوچکا ہے

آج ہمارے پاس علم تو بہت ہے لیکن نفع مند نہیں ،اس لئے کہ نہ تو علم پر عمل کیا جارہا ہے اور نہ ہی فکر ی محنت ہےمادی دنیا میں ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے،30سال پرانی چیز آج کے زمانے میں نہیں چلتی
ماں کی گود میں لیٹا بچہ ، ایک ہی چہرے کو دیکھتا ہے جو اس کی ماں کاہوتا ہے۔سب سے پہلے اسی پر نظر پڑتی ہے ۔ماں مسکراتی ہے، بولتی ہے ، اس کی آنکھوں میں پیار آتا ہے ، وہ لاڈ کرتی ہے اور اپنائیت بھرے الفاظ سے بچے کو مخاطب کرتی ہے اور یہ سب کچھ بچے کے لاشعور میں محفوظ ہوتا رہتا ہے۔ماں کی گود سے ہی وہ دوسروں سے اثر لینا شروع کرلیتا ہے اور یہ عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سارے افراد کی کچھ عادات بالکل اپنے والدین جیسی ہوتی ہیں۔دراصل انسان کا ذہن اس کا اپنا نہیں ہوتابلکہ یہ ان تمام لوگوں کا دیا ہوا ہوتا ہے جنہیں وہ دیکھتا ہے اور ان سے متاثر ہوتا ہے ۔ان سب کی عادات اس نے مستعار لی ہوتی ہیں۔انسان اپنے اند ر جھانکتا ہے تو طرح طرح کی شخصیات اس کو مل جاتی ہیں ۔میں اپنے اندر جھانکتا ہوں تو مجھے خود میں کہیں اشفاق احمد اور کہیں واصف علی واصف دکھائی دیتے ہیں ۔میرے من کے کسی گوشے میں کہیں اقبالؒ تو کہیں مولانا رومیؒ نظر آتے ہیں ،کیونکہ میں نے انہیں پڑھا، اور ان سے متاثر ہوا ہوں ۔
یاد رکھیے ! انسان جن عادات ، معلومات اور رویوں کو اپنے اندر جذب کرتا ہے تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اس کو دوسروں میں پید ا کرنے والا بن جاتا ہے۔ واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ ’’کتاب علم کا مَدفَن ہے اور اور علم کا مَخرج نگاہ ہے ۔‘‘یعنی علم جہاں پر دفن ہوتا ہے وہ کتاب ہے لیکن جس ذریعے سے علم نکلتا ہے وہ نگاہ اور بصیرت ہے ۔کیمیائے سعادت لکھنے والے شخص امام غزالی ؒ نے خود کیمیائے سعادت نہیں پڑھی لیکن آج ساری دنیا اس سے مستفید ہورہی ہے اور یہ علم ان کے دِل میں پیدا ہوا اور انہوں نے کتاب کی صورت میں اس کو تخلیق کیا۔کسی بھی فن کاجو پہلا علم انسان بناتا ہے وہ سراسر تخلیق ہوتی ہے ۔ جیسے علم الابدان(Anatomy)بنانے والے شخص نے کہیں سے بھی یہ علم نہیں لیا بلکہ اس نے خود تخلیق کیا ۔وہ اس مقام پر تھا جہاں علم پیدا ہوتا ہے اور ایک نوزائیدہ بچے کی طرح پلتے پلتے اس کی کئی ساری شاخیں بن جاتی ہیں ۔
علم کب پیدا ہوتا ہے؟
علم تب پیدا ہوتا ہے جب آنکھ سیب کو گرتا ہوا دیکھ لے تو وہ اس میں سے ایک قانون نکال لے اور دنیا کو بتادے کہ کشش نام کی ایک چیزاس دنیا میں موجود ہے۔کشش کا قانون دریافت ہونے کے بعد کتاب میں لکھ لیا گیا ، یہ کتاب میں دفن تو ہوگیا لیکن سوال یہ ہے کہ کتاب سے پہلے یہ کہاں پر تھا؟جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے یہ نگاہ میں تھا۔سیب صدیوں سے گررہے تھے لیکن ایک نگاہ نے اس کو گرتے دیکھا ،اس کے بارے میں غوروفکر کیا اور اسی غور و تدبر سے ایک مکمل قانون بن گیا۔
زندگی میں اصل مقام علم والے کا ہے او ر علم والا وہ ہے جو علم پیدا کرے،جس سے علم نکلے ۔جیسے شہد کی مکھی عرق لاکر اس سے شہد بناتی ہے، ایسا ہی علم والا انسان بھی اپنے علم سے دوسروں کو مستفید کرتا ہے۔علم پیدا ہوجانے کے بعد پہلااہم ترین سوال یہ آتا ہے کہ وہ مخلوقِ خدا کے کتنا کام آیا ؟کیونکہ دنیا کا قانون ہے کہ جو بھی چیز اگر فارغ پڑی ہوئی ہو اور کسی کو فائدہ نہ دے تو اس کی اہمیت کم ہوجاتی ہے ۔آپ ریت کو ہی دیکھ لیں ،ہر جگہ پڑی ہوتی ہے اس لیے چند سو روپوں میں پوری ٹرالی مل جاتی ہے لیکن اس کی بہ نسبت سونے کو دیکھیں تو اس کا ایک پاسہ بھی ہزاروں میں ہے۔اسی طرح علم بھی اگر مخلوقِ خدا کے کام نہیں آتاتو وہ خود بخو د مرجاتا ہے ۔
تاریخ عالم پر نظر دوڑائیں تو کتنے سارے علوم ایسے ہیں جو پیدا تو ہوئے لیکن اپنی موت آپ مرگئے ۔دوام ہمیشہ اس علم کو ملا ہے جو انسانیت کے کام آیا ۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پھر ایٹم بم دنیا میں کیوں موجود ہے حالانکہ وہ تو تباہی کی علامت ہے؟جواب یہ ہے کہ اس کے مثبت پہلو کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس سے اس قدر انرجی پیدا ہوسکتی ہے جس سے پورا ملک چل سکتا ہے۔علم کا بنیادی مقصد دوسروں کونفع دیناہے۔اسی لیے توآپﷺ نے دعا مانگی ہیـ:’’اے اللہ ! میں تجھ سے علم نافع کا سوال کرتا ہوں۔‘‘(سنن ابن ماجہ :925)
یادر کھیں علم وہ ہے جس کو یاد رکھنانہ پڑے بلکہ وہ ہمیشہ دِل و دماغ میں رہے۔جیسے انسان کو اپنے گھر کا راستہ یاد نہیں رکھنا پڑتا۔مچھیرے کو مچھلیاں پکڑنے کے لیے روز ٹریننگ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی ،کیونکہ یہ وہ فن ہے جو وہ سیکھ چکا ہے اور اس فن سے روزاس کا واسطہ پڑتا ہے ۔جب علم نفع کی طرف جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی خود متعین کرتا ہے ۔ہم اگر اپنی ذات پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ آج تک جتنے بھی علوم ہم نے حاصل کیے ہیں وہ ہمارے اپنے نہیں بلکہ دوسروں کے ہیں۔ اس لیے کوشش اس بات کی کرنی چاہیے کہ کائنات کے متعلق غوروتدبر کی عادت پیدا کی جائے ۔اس عادت سے حکمت ملتی ہے اور پھر اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جس کو دنیا صاحب علم کہتی ہے اور صاحب علم وہ ہوتا ہے جوعلم پیدا کرتا ہے۔
مادی دنیا میں ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے۔آج سے 30سال پہلے جو دوائی ایجاد ہوئی تھی ،آج کے زمانے میں وہ نہیں چلتی ،بلکہ جدید تحقیق کے مطابق اب وہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔کسی زمانے میں 3310موبائل اپنے عروج پر تھا لیکن اب وہ ناپید ہوچکا ہے ،حالانکہ جس علم سے وہ موبائل بنا تھا وہ ایک مضبوط علم ہے۔اس کے بعدAndroidآیا ، پھرAppleآیا اورہر نیا علم پچھلے علم کو بنیاد بناکر کھڑا ہوتاگیا۔اسی تسلسل کے ساتھ دنیا جب ترقی کرتی ہے توآج کی جدید ٹیکنالوجی بھی اگلے چند سالوں میں پرانی نظر آتی ہے۔
علم اپنا راستہ خود متعین کرتا ہے
دنیا کا ہر علم اپنی زندگی خود بتاتا ہے۔سقراط اپنے زمانے کاسچا انسان تھا اور اسی سچائی کی پاداش میں اس کو سزا دی گئی ۔حکومت وقت نے کہا کہ ہم آپ کو اذیت نہیں دیں گے بلکہ آپ کی سزا یہ ہے کہ آپ کو زہر خود پینا ہوگا۔کسی بھی زمانے اورمعاشرے میں جب سزا دی جاتی ہے تو وہ صرف سزا نہیں ہوتی بلکہ وہاں کی ثقافت بھی اس میں شامل ہوتی ہے ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں میت کو غسل دے کر دفنایا جاتا ہے ، کہیں جلایا جاتا ہے ،کہیں گِدھوں اورچیلوں کے آگے ڈالا جاتا ہے ۔ہر جگہ اور تہذیب کا طریقہ مختلف ہے ۔ایسے ہی اس زمانے کی بدترین سزا بھی یہ تھی کہ قیدی کو زہر کا پیالہ خود پینا پڑتا تھا ۔ سقراط نے جب زہر کا پیالہ منہ کے قریب کیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔ جو مردم شناس تھے وہ جان گئے کہ اس انسان میں کچھ خاص بات ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ تمہاری آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کیوں ہے؟سقراط کا جواب تھا :
’’یہ لوگ ساٹھ ،ستر سال کے انسان کو تو مارسکتے ہیں لیکن میری سوچ کونہیں۔میری سوچ کو مارنے کا زہر ابھی تک نہیں بنا۔‘‘
آج دو ہزار سال ہوگئے ، لوگ چلے گئے ، زمانے بدل گئے لیکن سقراط کی وہ فکر اب بھی زندہ ہے اور اس قدر زندہ ہے کہ آج ایم۔اے فلسفہ سقراط کو پڑھے بغیر نہیں ہوسکتا۔علم اپنے زمانے کو خود متعین کرتا ہے ،وہ جتنا نفع دینے والا ہوتا ہے اتنا ہی طویل عرصے تک زندہ رہتا ہے اور جو نفع مند نہ ہو اس کی زندگی بھی اتنی ہی مختصر ہوتی ہے ۔
دنیا کا بڑا علم
دنیا کا سب سے بڑا علم جو انسانوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے، وہ تہذیب ہے ۔آپ جب تہذیبی ارتقا کو پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جن لوگوں نے کسی تہذیب کو پروان چڑھایا اور زمانے بھر پر اثر انداز ہوئے ، ان کے مختلف زمانوں میں مختلف نام رہے ہیں۔جن میں سب سے معتبر نام رسول اور پیغمبرکا ہے ۔یہ ایک آفیشل عہدہ ہے یعنی اللہ نے جن کو منتخب کیا اور ان پر وحی بھیجی۔
دوسرا منصب وہ ہے جس میں مذہب ہے ۔یہ فکر ، فلسفہ ، منطق اور زندگی کو ملاکر ایک چیز تخلیق کرنا ہے،جس کو مائتھولوجی (مذہب)کہا جا تا ہے۔یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ مذہب اور دین دو مختلف چیزیں ہیں ۔مذہب کا مطلب ہے طریقہ اور راستہ ، وہ راستہ جو کئی طرح کی فکری اور تہذیبی ارتقائوں کے بعدانسان نے متعین کیا ہوجیسا کہ ہندو ازم اور سکھ ازم ۔آپ کو سکھوں کے اشلوک میں بابا فریدالدین کے اشعار بھی ملیں گے، حالانکہ خدائی کلام میں انسانی کلام کی ملاوٹ نہیں ہوسکتی لیکن چونکہ وہ دین نہیں بلکہ مذہب ہے اس لیے ان چیزوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسلام ’’دین‘‘ ہے اوردین وہ ہوتا ہے جس کی بنیاد وحی پرہوتی ہے ۔دین کا یہ اعزاز ہوتا ہے کہ اس میں خدائی کلام(کلام اللہ ) اور انسان کا کلام(حدیث) بالکل الگ الگ ہوتے ہیںاور یہ اعزاز اسلام کو حاصل ہے۔
تیسرا منصب استاد ،مرشد اور اتالیق کا ہے ۔آج کل فزکس ، کیمسٹری ، انگریزی اور دین کے استادکے الگ الگ نام ہیں ،کیونکہ علم کی شاخیں بن گئیں تو مجبوری میں یہ نام دئیے گئے ۔ابتدا میں استاد کا کام اس علم کو پروان چڑھانا تھا جس کو ہم ’’تہذیب‘‘ کہتے ہیں۔وہ اپنے شاگردوں کی فکری رہنمائی کرتا تھا۔ حضرت عمرؓ کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے پاس اپنے وقت کے تین عظیم علوم تھے ۔ حسب نسب ، پہلوانی اور تلوارزنی۔وہ ایک عظیم شخصیت تھے اسی لیے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی دُعا میں مانگا تھا۔ان کی بہادری او رقابلیت اپنی جگہ لیکن جب انہیں حضور اکرم ﷺ کی صورت میں استاد اور پیغمبرانہ نسبت ملی تب وہ ایسے جوہر بن گئے کہ جن کی کوئی مثال نہیں تھی۔یہی حضرت عمرؓ جب خلیفہ بنے تو منبر پر بیٹھ کر روتے اور کہتے تھے: ’’یارسول اللہ !اگر آپؐ نہ ہوتے تو ہم بھی اس مقام پر نہ ہوتے کیونکہ ہم توبکریاں چرانے کے قابل بھی نہیں تھے ۔‘‘
سوال یہ ہے کہ کیا آپ ﷺ نے اپنی بعثت کے بعد کوئی تعمیراتی کام کروایا تھا ،سڑکیں یاپل بنوائے تھے ؟ نہیں، بلکہ انہوں نے سوچ پر کام کیا تھا اورسوچ پر کام کرنے کاہی نتیجہ تھا کہ اس کے بدلے میں ایک ایسی تہذیبی ارتقاء وجود میں آئی کہ اونٹ بکریاں چرانے کی کمزور صلاحیت رکھنے والے لوگ بھی دنیا کے فاتح بن گئے ۔آپؐ کبھی سکندراعظم کو پڑھیں اور پھر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت کو پڑھیں توسکندرِ اعظم آپ کو بونا لگے گا۔کیونکہ حضرت عمر ؓ کے کارناموں کے پیچھے وہ سوچ اور تربیت ہے جو رسول اکرم ﷺ نے کی اور اس تربیت کا نتیجہ یہ ہے کہ علم ، فہم اور فیصلہ سازی میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ وہ جہاں بھی قدم رکھتے ہیں تو زمانہ سر تسلیم خم کردیتا ہے ۔
آج ہمارے پاس علم تو بہت ہے لیکن نفع مند نہیں ،اور اس کی بڑی وجوہات یہ ہیں کہ نہ تو علم پر عمل کیا جارہا ہے اور نہ ہی فکر ی محنت ۔غور و تدبر سے خالی اس معاشرے میں سوچ پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ، کیونکہ سوچ اعلیٰ ہوگی تو علم پر عمل بھی ہوگا اور وہ دوسروں کے لیے فائدہ مند بھی۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کے فیصلے ان کی سوچ کی بدولت ہوتے ہیں ۔وہ جس قدر اعلیٰ سوچ کے مالک ہوں گے ، اتنے ہی ترقیوں کے نئے دروازے ان پر کھلیں گے۔