بی بھٹیارن، تاریخ میں گم ہو چکی

اسپیشل فیچر(تحریر : ایم آر ملک) بستی تو لگ بھگ تین صدیاں پرانی ہے مگر ریل یہاں ایک سو سال سے کچھ اوپر ہی پہنچی تھی۔ اس جگہ کا پرانا نام سیدپور تھا۔ ایمن آباد کا نام، شہنشاہ کے جاہ و جلال اور بی بھٹیارن کی معصوم خواہش کی کہانی ہے۔ کہتے ہیں شہنشاہ شاہجہاں سید پور میں ’’ایمن‘‘ نامی بھٹیارن کے بھنے ہوئے چنوں کا مہمان بنتا تھا۔ایک روز بادشاہ نے بھٹیارن سے دریافت کیا،‘‘مانگ کیا مانگتی ہے؟’’آگ سے رزق کا سبب کرنے والی بولی، مہاراج، دیس پرگنہ کیا دو گے بس اس جگہ کا نام میرے نام پہ کردو‘‘ ۔ بھٹیارن بولی۔ بادشاہ مان گیا، قانون گو نے بادشاہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ’’ایمن ‘‘کے نام پر قصبہ آباد کر دیا۔

کہتے ہیں، شہنشاہ شاہجہاں نے ’’ایمن ‘‘نامی بھٹیارن کے نام پر شہر کا نام رکھا
ایک اور واقعہ قابل ذکر ہے کہ دہلی میں ’’بھولی بھٹیاری محل ‘‘ واقع ہے جس کو چودہویں صدی میں فیروزشاہ تغلق نے شکارگاہ کے طور پر تعمیر کرایا تھا۔ اس بھولی بھٹیاری کے دو الگ الگ قصے ہیں۔ ایک کے مطابق تغلق خاندان کے زوال کے بعد یہ محل ویران ہو گیا تھا۔ تب بوعلی بھٹیاری نام کے ایک صوفی بزرگ یہاں آئے تھے اور کافی عرصہ تک رہے تھے۔ دوسرے قصے کے مطابق راجستھان کی ایک قبائلی خاتون، جنہیں بھٹیارن کہا جاتا تھا، وہ اپنا راستہ بھول گئی تھی اور وہ اس محل میں آگئی۔ اس لئے اس محل کوبھولی بھٹیاری محل کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ محل آج بھی ویران ہے ۔
چولہا یا بھٹیارن کی بھٹی
گھریلو ثقافتی سامان میں چولہا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ کھانا پکانے، آگ تاپنے اور توا چڑھانے کے ساتھ ساتھ ماضی میں بھٹیارن کی کڑاہی چڑھانے کے کام آتا تھا جسے بھٹی کہا جاتا تھا۔ یہ چولہا دراصل بھاڑ ہوتا تھا جس میں بھڑبھونجے چنے یا مکئی کے دانے بھونتے ہیں۔ مقامی طور پر اسے بھٹیار کہتے ہیں۔ جو بھٹی پر ایک بڑا برتن مضبوطی سے رکھتا تھا۔ اس میں بالو یعنی ریت ڈالتا تھا۔ ریت گرم ہوتی تو بھٹیارن مکئی کے دانے اس میں بھوننے کیلئے ڈالتی تھی اور متواتر نیچے بھٹی میں سوکھی جھاڑیوں کا ایندھن جھونکا جاتا تھا ،بھٹی کے بالن میں کماد کی سوکھی چھال جسے ’’چھوئی ‘‘کہا جاتا ہے جبکہ بیلنے میں بیلے ہوئے گنے کا سوکھے پھوگ کا ایندھن استعمال ہوتا تھا، قفلی، تغاری اور دیگر برتن اس کے پاس پائے جاتے ہیں۔سامان کی عدم موجودگی میں کہا جاتا ہے۔ ‘بھٹیارن کے پاس جب گائوں کے فرد چنے ،چاول ،یا مکئی کے دانے اُس کے پاس لاتے تو وہ ان میں سے مٹھی بھر کر ایک طرف رکھ لیتی تھی یہ اُس کا محتانہ ہوتا جسے ’’بھاڑا کہا جاتاتھا جب مغرب کے وقت سردیوں کی کہر آلود شام کو وہ گھر کو روانہ ہو جاتی تو وہ بھٹی جس میں سارا دن ایندھن جلتا خوب گرم ہوتی تھی اور گائوں کے نوجوان پھر اس بھٹی کے گرد دائرے کی شکل میں رات گئے تک بیٹھ کر گپیں ہانکا کرتے تھے۔ اس بیٹھک کے دوران اکثر اوقات بھٹی کے کنارے ٹوٹ جاتے صبح جب بھٹیارن دوبارہ اپنے کام کی خاطر بھٹی گرم کرنے آتی تو اُسے بھٹی کے کنارے ٹوٹے ہوئے ملتے وہ پھر خوب اُن نوجوانوں کو بُرا بھلا کہتی اگر پتہ چل جاتا کہ فلاں خاندان کے نوجوانوں نے یہ کام کیا ہے تو وہ شکایت لیکر اُس کے گھر پہنچ جاتی جس پر اُس نوجوان کے بزرگ اُسکی خوب درگت بناتے ۔ بی بھٹیارن کے پاس گائوں کے لوگ اکثر گھر سے گڑ کوٹ کر لاتے گرم گرم بھنے ہوئے دانے بھٹیارن گڑ والے کپڑے میں ڈال کر جب مروڑتی تو گڑ اور دانے مکس ہوجاتے اور مرونڈا بن جاتا تھا ، بھٹیارن کا چولہا یا بھٹی گائوں کے بڑے چوک میں بنا ہوتا تھا ،بھٹیارن جسے جھارن بھی کہا جاتا تھا چولہے پر بڑا سا کڑاہی نما برتن چڑھا کر اور اُس میں موٹی دریائی ریت ڈال کر گندم ،مکئی اور چنوں کو بھونتی تھی۔

پنجاب میں روایتی طور پر استعمال ہونے والی یہ چولہا نما بھٹی زمین میں ایک گڑھا کھود کر بنائی جاتی تھی کہا جاتا تھا آگ بن دھواں کہاں یعنی جہاں آگ ہوتی ہے وہاں دھواں ضرور ہوتا ہے۔ یہ منظر دھوبیوں، لوہاروں، زرگروں اور گھروں کے چولہوں، اینٹ کی بھٹیوں اور کبھی کبھار کھیتوں اور جنگ میں اچانک بھڑک جانے والی آگ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ بھی ہمارے دیہی کلچر کا حصہ رہا ہے کہ بھٹی میں آگ جلانے والے بھٹیارے اور بھٹیارن کہلاتے تھے ۔ لیکن ایک قسم کی بھٹی وہ ہے جس میں آگ جلانے والے کو بھڑبھونجا کہتے ہے۔ کہتے ہیں آگ اور بیری کو کم نہ سمجھیں کیونکہ اس کی لپٹیں کسی بھی وقت اٹھ سکتی ہیں۔ ماضی میں یہی آگ راکھ میں چھپائی جاتی تھی۔ لوگ گوبر کے اوپلے میں آگ رکھتے تھے یہ تب کی بات ہے جب دیا سلائی نہیں ہوتی تھی۔ پڑوسی ایک دوسرے سے آگ مانگتے تھے ایک کہاوت بھی ہے، آگ لینے آئی، گھر والی بن بیٹھی۔بھٹیارن کا کام دوربین لگا کر دیکھنے سے نظر نہیں آئے گا۔ بھٹ اور بھٹیارا کب کے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہمارے گاؤں کی شاموں اور سنتا بھٹیار ہوا کرتا تھا۔ بعض گائوں میں بھٹیارن ہوتی تھی۔ جن کے بھاڑ گرم کرنے کے اوقات مقرر تھے۔ ہر وقت کسی کا غلہ نہیں بھونتے تھے ۔گاؤں کا انتہائی غریب بندہ بھڑبھونجے کا کام کرتا تھا۔ اس لئے جب کوئی غریب امیروں کی نقالی کرتا ہے تو طنز کے طور پر کہا جاتا ہے ” بھڑبھونجے کی بیٹی، کیسر کا تلک۔ یعنی غریب ہوکر امیروں کی نقل کرتا ہے۔
بھٹیارن دیہی علاقے کا طلسماتی کردار
حقیقت یہ ہے کہ بھٹیارن دیہی علاقوں کا ایک طلسماتی کردار تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہوتا چلا گیا گندم ،مکئی اور چنے کے دانے بھوننا دیہی علاقوں کی ایک اہم روایت رہی ہے ، ایک دور تھا جب شام ہوتے ہی پنجاب کے دیہات بھٹی میں بھنے دانوں کی مہک سے معطر ہوجاتے تھے ۔بھٹیارن چنے اور مکئی کو بھونتی تو بے اختیار لوگ کھنچے چلے آتے مگر وقت بدلا۔ جدید دور میں قدیم روایتیں دم توڑنے لگیں دیگر پیشوں کے ساتھ ساتھ دانے بھوننے والی بھٹیارنوں کا کردار بھی بیشتر دیہات سے ختم ہو تا چلا گیا ،،مگر اب بھی کچھ دیہات ایسے ہیں جہاں شام ہوتے ہی بھٹی گرم ہوجاتی ہے دیہات میں شام پڑتے ہی خواتین اور بچے بھٹی پر بھنے ہوئے، دانے چاول،مکئی کھانے کے شوق میں بھٹی کے گرد بیٹھ جاتے ہیں،اور خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ گرم گرم چنوں اور مکئی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
مائی نواب بی بی کہتی ہیں کہ پاکستان بننے سے پہلے جب ہم جالندھر میں ہوتے تھے ،مجھے یاد ہے کہ جب مکئی کا سیزن ہوتا تھا اور فصلیں پک کر تیار ہو جاتی تھیں تو وہ تازی چھلیوں کے د انے اتار کر حویلی کے بڑے دروازے کے باہر ایسی ہی تندور نما بھٹی جو میاں جی اور ماں جی نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی تھی اُسمیں لکڑیوں کی آگ پخا کر جسمیں کبھی کبھی پاتھیاں بھی ہوتی تھیں عصر اور مغرب کے درمیان دانے بھونا کرتی تھیں ۔ انکی یہ سروس فری ہوتی تھی۔ہمارے محلے میں پچاس فیصد مسلمان اور اتنے ہی سکھ تھے ۔ ماں جی مخصوص آواز میں کہتی تھیں،’’ مُنڈیو تیار ہو جاؤ‘‘ (لڑکو! تیار ہو جائو!)اور باری باری سب کو حصّہ بقدر جُثّہ عنایت ہو جاتا تھا۔ بڑی عمر کے سکھ کبھی چھولیہ لے آتے اور کہتے”ماں جی میں شہر گیا سی تاں آء نجر آیا، میں پَھڑ لیاندا کے رَل مِل کے کھاواں گے”ماں جی انہیں بھون کر تیار کرتیںبڑوں کے مرچنڈائز کا پراگہ سب سے آخر میں تیار ہوتا تھا اور اُسوقت تک میاں جی اور ساتھ والے گھر کے سردار جی کا حُقّہ تیار ہوتا تھا، کبھی کوئی ساتھ میں گُڑ بھی لے آتا تھا اور یہ محفل مغرب کے وقت اختتام پذیر ہو جاتی تھی. پھر پاکستان بن گیا اور ہم ہجرت کر کے جو گھر والے پہنچ سکے آ کر لائل پور کے قریب جھنگ روڈ پر ایک گاؤں میں رہائش پذیر ہوگئے مگر بھٹیارن .ماں جی کا یہ سلسلہ اُنکی وفات تک جاری رہا.
بھٹیارن کا کردار ہمارے کلچر کے ساتھ جڑا ہوا تھا، بھٹیارن کی بھٹی گرم نہیں ہوتی نہ ہی اب دیہی علاقوں میں کوئی دانے بھوننے والی ہے۔ دانے بھنوانے والے لوگ بھی ماضی کا حوالہ بن گئے، اب مکئی کے بھنے دانوں کی جگہ اعلٰی قسم کے پاپ کارن بازار میں دستیاب ہیں ایک جدید تحقیق کے مطابق یہ ثابت ہوا ہے کہ لوہے کی مشین میں بننے والا پاپ کارن کینسر کا سبب بن رہا ہے مگر بھڑی میں بھنے مکئی کے دانے صحت کیلئے نفع بخش تھے وہ کلچر زوال پذیر ہوا۔