ہمیں حکومت ملی تو خیبر پختون خوا کو پنجاب سے آگے لے جائیں گے، شہباز شریف

سوات:(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں حکومت کا موقع ملا تو خیبر پختون خوا کو پنجاب سے آگے لے جائیں گے، بی آر ٹی پروجیکٹ ن لیگ کو ملتا تو ہزار گنا بہتر بناتے اور لاہور کی میٹرو سروس سے پہلے مکمل کرلیتے۔

یہ بات انہوں نے سوات میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پی ڈی ایم کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں بیس بیس گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈںگ ہوتی تھی تاہم نواز شریف نے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، 14 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کی لیکن آج ملک میں لوڈ شیڈنگ سے عوام کا برا حال ہے، عمران خان کہتے تھے سستی بجلی لاؤں گا مگر آج سستی بجلی تو دور کی بات مہنگی بجلی بھی نہیں مل رہی۔
انہوں ںے کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں پنجاب کے تمام اسپتالوں میں دوائیں مفت ملتی تھیں آج دوائیں بھی چھین لی گئیں، لیکن آج مریض علاج کے لیے در بدر پھررہا ہے، عمران خان کے دور میں مہنگائی آسمان پر پہنچ گئی، آج پاکستان بنانے والوں کی روحیں تڑپ رہی ہوں گی، بنی گالہ کے محل میں بیٹھے عمران نیازی کو سوات کے عوام کا کیا پتا؟

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں بھی عوام کا برا حال ہے، پشاور بی آر ٹی میں اربوں روپے کمائے گئے، نواز شریف کی قیادت میں بی آر ٹی کا پروجیکٹ بنتا تو ہزار گنا بہتر ہوتا اور ہم یہ پروجیکٹ لاہور کی میٹرو سروس سے پہلے مکمل کرلیتے، ہمیں حکومت کرنے کا موقع ملا تو خیبر پختون خوا کو پنجاب سے آگے لے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان پرانے پاکستان سے کئی سال پیچھے چلا گیا اس حکومت کا عوام نے اپنے ووٹ سے خاتمہ نہ کیا تو پاکستان کا مزید برا حال ہوجائے گا، مہنگائی اور کرپشن کے خلاف انقلاب آنا چاہیے، وزیراعظم کہتے ہیں گھبرانا نہیں لیکن میں عوام سے کہتا ہوں کہ ’’گھبراؤ اور اس کو بھگاؤ‘‘، اگر اپنی تقدیر بنانی ہے تو عمران نیازی کو مزید تقدیر سے کھیلنے نہیں دینا۔

بارش کے سبب جلسے کے انتظامات درہم برہم

قبل ازیں بارش کے سبب جلسے کے انتظامات درہم برہم ہوگئے۔ جلسے کے لیے سوات کے مختلف علاقوں، دیر، چترال، چارسدہ، صوابی، مردان سمیت دیگر اضلاع سے کارکنان پہنچے ہیں۔ شرکاء کے لیے 10 ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں ، جلسہ گاہ میں جمعیت علماء اسلام کے 3 ہزار رضاکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں جب کہ جلسہ گاہ کے باہر 1600 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب جلسے کی ابتدا میں ہی تیز بارش سے گراسی گراؤنڈ جھل تھل ہو گیا اور کیے گئے سارے انتظامات درہم برہم ہوگئے، قائدین کے انتظار میں بیٹھے کارکن بارش سے بچنے کے لیے کرسیوں کا استعمال شروع کردیا۔