عمران خان ، پوری اپوزیشن کو جیل میں ڈال کر ملک کے مسائل حل کر سکتے ہیں تو بے شک ایسا کر کے دیکھ لیں: نوید قمر

نیویارک (سب رنگ نیوز ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کا کہنا ہے کہ عمران خان ، پوری اپوزیشن کو جیل میں ڈال کر ملک کے مسائل حل کر سکتے ہیں تو بے شک ایسا کر کے دیکھ لیں ، لیکن یہ ملک و قوم کے مسائل کا حل نہیں ہے ۔نیویارک میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کے بعد چینل فائیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے نوید قمر کا کہنا تھا کہ جب سے عمران خان وزیر اعظم بنے ہیں ، محاذ آرائی کی سیاست اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ کسی بھی اتفاق رائے کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔بدقسمتی سے پارلیمنٹ جو کہ اتفاق رائے کا سب سے بڑا ادارہ ہوتا ہے ، اس ادارے میں بھی محاذ آرائی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی اور آئین سازی کے حوالے سے بھی اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے ۔ ضرورت یہ ہے کہ ہم ان اداروں کو کم از کم اس پوزیشن پر لے جائیں کہ جہاں پر ایک ورکنگ ریلیشن شپ کا ما حول تھا ۔ اپوزیشن کا کردار تو ہر حکومتی دور میں رہا ہے اور رہے گا۔حکومت اور اپوزیشن میں ایک ورکنگ ریلیشن شپ ہونا بہت ضروری ہے ۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی بھی ادارہ نہیں بچا کہ جو اس ساری کشمکش کا شکار نہ ہو۔

ا س سوال کے محاذ آرائی کی موجودہ سیاست کا حل کیا ہے ، کے جواب میں نوید قمر نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ ہم اداروں کو صحیح راستے پر گامزن کریں۔ سپیکر کا آفس غیر متنازعہ ہو ، کوئی بھی پارلیمنٹ صرف گورنمنٹ سے نہیں چلتی ،پارلیمنٹ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ میں ہر ایک کو جیل میں ڈال دوں گا، جیل میں ڈالنا تو بہت آسان ہے ،جائیں بے شک ساری اپوزیشن کو جیل میں ڈال دیں ۔ کیا اپوزیشن کو جیل میں ڈالنے سے ملک کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے؟کیا ملک اور جمہوریت کی بہتری ہو گی ؟جواب نہیں ہے ۔ عمران خان ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ وہ جمہوری طریقے سے برسر اقتدار آئے نہیں ہیں ۔نوید قمر نے کہا کہ عمران خان بے آج یا دو سال کے بعد اقتدار سے رخصت ہوں ، جب تک وہ موجود ہیں ، ملک میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو گی ۔
مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سید نوید قمر نے کہا کہ جب سے چارٹر آف ڈیموکریسی ہوا، جب سے ڈی چوک پر عمران خان کا دھرنا ہوا، وہ ایسے حالات تھے کہ جب ملک کی دو بڑی جماعتوں اہم معاملات پر اکٹھے مل کر چلتے تھے ۔ بدقسمتی سے پی ڈی ایم میں کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ایک دوسرے سے دور کریں ۔مجھے خوشی ہے کہ آج ہم پھر ایسی سطح پر آئے ہیں کہ جہاں اکٹھے مل کر بیٹھ رہے ہیں اور پالیسی سازی میں پیش رفت ہو رہی ہے ۔توقع ہے کہ یہ صورتحال جاری رہے گی
بجٹ منظوری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نوید قمر کہا کہنا تھا کہ بجٹ کی منظوری یا نا منظوری کا دارو مدار ، ارکان کی تعداد پر ہوتا ہے۔ کسی بھی حکمران جماعت کے پاس اگر ایک رکن کی بھی اکثریت ہو تو وہ بجٹ منظور کروا سکتی ہے لیکن کیا بجٹ قابل قبول ہو گا یا لوگوں کے مسائل کا حل ہے ؟ایسا بالکل نہیں ہے ۔لہٰذا عمران خان ، بے شک ایک کیا ، دس بجٹ بھی دے دیں اور بجٹ میں عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے تو اس بجٹ کا کیا کرنا ۔