کورونا وائرس کا نیا علاج: سونگھنے والی نینوباڈی

پٹسبرگ:(ویب ڈیسک) امریکی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی ایک ایسی دوا ایجاد کرلی ہے جو نینوباڈی کہلانے والے حیاتی سالموں (بایو مالیکیولز) پر مشتمل ہے اور جسے ناک سے سونگھ کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

فی الحال یہ دوا ابتدائی تجرباتی مراحل میں ہے اور اسے ’’ہیمسٹرز‘‘ (چوہے جیسے جانوروں) پر کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔

بتاتے چلیں کہ ’’نینوباڈیز‘‘ (nanobodies) دراصل بہت چھوٹی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جنہیں مختلف بیماریوں کے علاج میں اینٹی باڈیز سے زیادہ بہتر اور مؤثر بھی قرار دیا جاتا ہے۔
کورونا وائرس کے خلاف یہ نئی نینوباڈی پٹسبرگ یونیورسٹی کے ماہرین نے تیار کی ہے جبکہ اس پر مبنی علاج کو ’’پٹسبرگ اِنہیل ایبل نینوباڈی 21‘‘ (PiN 21) کا نام دیا گیا ہے۔

ریسرچ جرنل ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، یہ نینوباڈی نہ صرف کورونا وائرس کو ناکارہ بناتے ہوئے بیماری ختم کرتی ہے بلکہ اسے دوبارہ حملہ آور ہونے سے بھی روکتی ہے۔

تجربات کی غرض سے ہیمسٹر کے پھیپھڑوں کو مصنوعی طور پر کورونا وائرس سے متاثر کیا گیا۔

اس کے بعد انہیں ’’پِن 21‘‘ نینوباڈی کی بہت ہی معمولی مقدار (0.6 ملی گرام فی کلوگرام کی شرح سے) سنگھائی گئی۔

نینوباڈی نے ہیمسٹرز کے پھیپھڑوں میں پہنچتے ہی کام دکھانا شروع کردیا اور کورونا وائرس کی شدت میں کمی آنے لگی، یہاں تک کہ دس دن بعد یہ وائرس مکمل طور پر ختم ہوگیا۔

صحتیابی کے بعد ان ہیمسٹرز میں ناک کے راستے (سانس کے ذریعے) کورونا وائرس ایک بار پھر داخل کیا گیا لیکن سائنسدانوں کو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ نینوباڈی (PiN 21) نے کورونا وائرس کا دوسرا حملہ بھی ناکام بنا دیا۔

یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی نینوباڈی مؤثر اور سرگرم تھی۔

انہی تجربات کے دوسرے مرحلے میں کورونا وائرس سے متاثرہ ہیمسٹرز کو نینوباڈی کے بخارات والے ڈبوں میں رکھا گیا۔

اِن ڈبوں کی اندرونی ہوا میں نینوباڈی والے بخارات کی شرح اور بھی کم، یعنی صرف 0.2 ملی گرام فی کلوگرام تھی۔

اس ماحول میں ہیمسٹرز کی ناک اور منہ کے علاوہ ان کا پورا جسم بھی نینوباڈی کے سامنے تھا۔

ان تجربات میں یہ نینوباڈی چھ گنا زیادہ مؤثر ثابت ہوئی اور اس نے بہت تیزی سے ہیمسٹرز میں کورونا وائرس کا خاتمہ کردیا۔

ہیمسٹرز میں کامیاب تجربات کے بعد ماہرین کی یہ ٹیم انسانوں میں اس نینوباڈی کی ابتدائی آزمائش کےلیے ایف ڈی اے کی جانب سے اجازت کا انتظار کررہی ہے۔

اگر یہ نینوباڈی انسانوں میں بھی اتنی ہی مؤثر ثابت ہوئی تو امید ہے کہ بہت جلد کورونا ویکسین کے ساتھ ساتھ اس کا ایک اور کم خرچ علاج سامنے آجائے گا جو بطورِ خاص اُن لوگوں کےلیے مفید ہوگا جو اس بیماری سے اوسط درجے پر متاثر ہیں۔

یہی نہیں، بلکہ نینوباڈیز والے اسی طریقے پر عمل کرتے ہوئے دوسری بیماریوں کے علاج کی ایک نئی راہ بھی ہمارے سامنے ہوگی۔