”اکنا” کے نام نہاد ملازم شبیرگل کی نیویارک سٹی کے صحافیوں کو ذبح کرنے کی دھمکی

نیویارک: (سب رنگ نیوز) گذشتہ روز نیویارک میں ہونیوالی ایک ”عید ملن پارٹی” میں خود کو امریکہ کی سب سے بڑی فلاحی مسلم تنظیم ”اکنا” کے ورکر کہنے والے برانکس کے رہائشی شبیرگل نے ”سب رنگ ٹی وی” کے سربراہ ظفراقبال نیویارکر اور میڈیا سے منسلک فاروق مرزا، سید شہباز اور محمد حسین کے بارے میں کہا ہے کہ یہ افراد کمیونٹی میں انتشار پھیلا رہے ہیں، لوگوں کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں، ایسے افراد کو دل چاہتا ہے ذبح کر دوں۔

طاہر میاں کی رہائش گاہ پر ہونیوالی اس ”عید ملن پارٹی” میں شبیر گل نے خود کو ”اکنا” کا خصوصی کارکن گردانتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پرصرف برانکس ایریا میں 2.4 ملین افراد کو کھانا فراہم کیا ہے جبکہ ”اکنا” کی اپنی ویب سائیٹ کے مطابق ”اکنا” نے پورے امریکہ میں 1.4 ملین افراد کو فوڈ کی تقسیم کی ہے۔

شبیرگل نے معروف کالمسٹ سرور چوہدری پربھی الزام لگایا کہ وہ ان افراد کی پشت پناہی اور مالی مدد کرتے ہیں۔

”سب رنگ ٹی وی” کے سربراہ ظفر اقبال کے مطابق اس ویڈیو کو فیس بک عون مرتضی نقوی نے لائیو کیا تھا، جسے بعد میں اپنے الفاظ پر غور کرتے ہوئے شبیرگل نے ڈیلیٹ کروا دیا ہے۔ ظفراقبال نے بتایا کہ ہم یہ ویڈیو اپنے پاس محفوظ کر چکے ہیں اور اس ویڈیو کی بنیاد پر شبیر گل کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

ظفر اقبال نے مزید کہا کہ امریکہ جیسےملک میں شبیر گل جیسا شخص جو خود کو ”اکنا” جیسے بڑے فلاحی ادارے سے منسلک بتاتا ہے، اس قسم کے الفاظ کیسے استعمال کرسکتا ہے جو ”ہیٹ کرائم” کے ضمرے میں آتے ہیں۔ ادھر نیویارک جمیکا میں ”اکنا” کے دفتر میں ظفر اقبال کے رابطہ کرنے پر ”اکنا” کے نمائندہ خصوصی ”نویدباقی” نے بتایا کہ شبیر گل ”اکنا” کا ملازم نہیں ہے۔ ظفراقبال نے ان سے اس بات استفسار کیا کہ اگر شبیرگل ”اکنا” کا ملازم نہیں تو وہ ادارے کی ”گاڑی” کیسے استعمال کرسکتا ہے، کیا ان کی یہ حرکت اتنے بڑے فلاحی ادارے پر سوالیہ نشان نہیں چھوڑتی؟، کیا ”اکنا” نمائندگان سے اس بابت پوچھ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کیسے کمیونٹی و دیگر افراد کے دئیے گئے ڈونیشنز سے حاصل کردہ وسائل کو اپنی من مرضی سے ضائع کرنے کا حق رکھتے ہیں؟۔ہمارا دین اور فلاحی ادارے کا قانون انہیں اس بات کی کیسے اجازت دے سکتا ہے؟
ظفراقبال کی جانب سے ”نوید باقی” نے معوذ صدیق سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا جس میں ان سے یہ پوچھا گیا تھا معوذ صدیقی پاکستان کے ایک ٹیلی ویژن کیلئے کام کرتا ہے اور ”اکنا” سے تنخواہ بھی لیتا ہے۔