ہارکے باوجود پی ٹی آئی یوایس اے کا سینئر نائب صدر؟ ، امجد نواز کی بدمعاشی، پی ٹی آئی کیلئے لمحہ فکریہ

نیویارک (سب رنگ نیوز) پاکستان تحریک انصاف اپنے نام کی طرح انصاف کا نعرہ بلند کرتے ہوئے وجود میں آئی اور انصاف اور احتساب کے نعرے کی بدولت 2018 کا الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئی جس سے عام آدمی کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب جگمگانے لگے، مگر اس اقتدار کی مالک جماعت کی اوورسیز پالیسیوں کو ترتیب دینے کا ہما کس کے سرہے فی الوقت یہ جاننا تو مشکل ہے لیکن ان کی منظر عام پر آنے والی پالیسیوں کی واضح تصویر موجود ہے جس سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ جوبھی اس کے پیچھے ہے وہ سربراہ پارٹی کی آنکھوں میں خوبصورت طریقے سے دھول جھونکنے میں کامیاب ہے ۔

مثال کے طور پر پاکستان تحریک انصاف یو ایس اے کے گذشتہ الیکشن میں بری طرح پٹنےوالے نام نہاد سیاستدان امجد نواز جنہیں نہ تو پارٹی کی کسی باڈی نے منتخب کیا اور نہ ہی وہ الیکشن میں کامیاب ہو سکے مگر اس کے باوجود اپنے تئیں پی ٹی آئی یو ایس اے کے سینئر نائب صدر ہونے کے دعویدار ہیں جس سے نا صرف کی ان کی بدمعاشی کی واضح ہوتی ہے بلکہ ان کا یہ امر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سمیت اوورسیز پالیسیاں ترتیب دینے والے افراد کے معاملات پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

امجد نواز پارٹی کے ہر فورم ، نجی محافل اور امریکہ کے دورے پر تشریف لانے والے پارٹی کے سرکردہ افراد کے سامنے اپنے آپ کو بطور سینئر نائب صدر متعارف کرواتے ہیں جو کہ حالیہ منتخب باڈی کی قانونی حیثیت کیلئے بھی بہت بڑا چیلنج ہے ۔ سوال یہ ہے کہ امجد نواز جیسے نا اہل افراد جنہیں الیکشن میں بری طرح ریجیکٹ کر دیا گیا ہو اور وہ اپنے طور پر بدمعاشی، دھونس اور بدعنوانی سے پارٹی کے اہم نمائندہ بن بیٹھے ہوں، امریکہ جیسے سپر پاور ملک کی سیاست اور سیاستدانوں کے سامنے پاکستان کا روشن چہرہ کیسے پیش کر
سکتے ۔ کیا پارٹی سربراہ یا ان کے مقرر کردہ نمائندگان کو اس بارے میں سوچنا نہیں چاہیے؟، کیا یہ پارٹی پالیسیوں پر ایک بد نما داغ نہیں؟، کیا پارٹی معاملات کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہے جو خود احستاب کے اہل ہیں ۔

امریکہ میں تحریک انصاف کو قبضہ مافیا اور بلیک میلروں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے پہلے پارٹی کے سربراہ عمران خان کو اس جانب توجہ دینا ہوگی ورنہ جیسے ان کی پارٹی کی پاکستان میں دن بدن ساکھ خراب ہوتی جا رہی ہے ویسے ہی وہ دن دور نہیں جب یہ پارٹی بیرون ممالک میں بھی بری طرح اپنی ساکھ کھوتے ہوئے قصہ پارینہ بن جائے گی۔