پاکستانی قونصلیٹ کی بے حسی۔۔۔!!!

امریکہ سمیت دنیا بھر میں مقیم تارکین وطن(چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو) کیلئے ان کے ممالک خصوصاً قونصل خانوں کی جانب سے ان کی جانوں کے تحفظ کیلئے کورونا ویکسین کے حصول کیلئے نا صرف تگ و دو کی جا رہی ہے بلکہ اس کے حصول کو ہر طور عملی جامہ بھی پہنایا گیا ہے یا پھر کوشش جاری ہے۔ لیکن تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان خوش نصیب تارکین میں پاکستانی ہرگز شامل نہیں۔مثال کے طور پہ نیویارک اسٹیٹ میں رہائش پذیر پاکستانی کمیونٹی کی تکلیفوں، پریشانیوں اور دکھوں کے مداوے کیلئے قائم قونصل خانے کوہی لے لیجئے۔ یہاں موجود عملہ بالخصوص قونصل جنرل عائشہ علی بجائے اسکے کہ پاکستانی کمیونٹی کیلئے کورونا ویکسین کے حصول کیلئے دوڑ دھوپ کریں تاکہ کمیونٹی بروقت ویکسین لگوا کر اس موذی مرض سے نجات حاصل کرے۔ وہ صرف فوٹو سیشن تک ہی محدود ہیں۔ محسوس ہوتا ہے انہیں فوٹو سیشن کا جنون کی حد تک شوق ہے۔ جہاں بھی کوئی چھوٹی موٹی تقریب ہوتی ہے محترمہ پہنچ جاتی ہیں تصویریں اتروانے۔ پھر اخبارات میں شائع شدہ تصاویر کو دیکھ کر دل ہی دل یقینا خوش بھی ہوتی ہوں گی۔

محترمہ بھی اپنے پیش رو قونصل جنرل راجہ علی اعجازکی تقلید کررہی ہیں کیونکہ انہوں نے بھی فوٹوسیشنز کے علاوہ کمیونٹی کی فلاح کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔جو بھی یہاں بطور قونصل جنرل آتا ہے بس ”سیر سپاٹے“ کرکرا کے اور”کھابے شابے“ کھا کھلا کے کمیونٹی کو بے وقوف بنا کر چلتا بنتا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کیا ان کی تقرری کا صرف یہی مقصد ہوتا ہے یا پھر پاکستانی اس لائق ہے ہی نہیں کہ ان کو کوئی توجہ دی جائے۔ اگرحکومتی ترجیحات میں ان کا بھی شمار ہوتا تو یقینا ان کی طرف بھی دیکھا جاتا، ان کی بھی پریشانیوں کا مداوا کیا جاتا۔

کیا یہ پاکستانی قونصلیٹ کی بے حسی اور پاکستانیوں کی بے توقیری نہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

کیا ایک قونصل جنرل کا صرف یہی معیار رہ گیا ہے یا پھر اس کی کوئی اور بھی ذمہ داریا ں ہیں۔کیا کبھی ایسا وقت بھی آئے گاکہ ”فوٹو سیشنز،سیرسپاٹوں، کھابوں شابوں“ پر دھیان دینے کی بجائے کوئی عملی طور کمیونٹی کیلئے اقدامات کرنے والا مسیحا تعینات ہواور وہ پریشان حال پاکستانیوں کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ بھی رکھتا ہو۔ہمیں اس وقت کا شدت سے انتظار ہے اورکرتے رہیں گے۔ہمیں یقین ہے کہ ایک دن خدا ہماری بھی سنے گا۔