رسم پرچم کشائی یا قومی جھنڈے کی بے توقیری، کہیں ہم اپنے مقدس جھنڈے کی توہین تو نہیں کر رہے؟

ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم ، ہے پرچموں میں حسین پرچم،عطائے رب جلیل پرچم

زیر نظر موضوع پر لکھنے کو تو بہت مواد ہے لیکن میں صرف چند سطور پر ہی اکتفا کرنا چاہوں گا۔ ان دنوں امریکا بھر میں 23مارچ یوم قرارداد پاکستان جسے ہم یوم تجدید عہد بھی کہتے ہیں کے سلسلے میں تقاریب منعقد کی جارہی ہے جو کہ پاکستان سمیت پاکستان سے دور بسنے والے پاکستانیوں کا حق بھی ہے ۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم لوگ کس حد تک ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ بجائے اس کے کہ اس قومی دن پر14اگست کی طرح ایک علاقے ، شہر یا اسٹیٹ میں متفقہ طور پر ایک بڑے اجتماع کی صورت میں اپنے پاک اور مقدس جھنڈے کی پرچم کشائی کریں ہم یوں لاچار ، بے سہاروں اور بے وقعتوں کی طرح گلی گلی، محلے محلے اس کی بے توقیری کرتے پھر رہے ہیں ۔ کیا ہمیں شرم سے ڈوب مرنا نہیں چاہیے ۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس پرچم کشائی کیلئے معزز اور اعلیٰ عہدے پر فائز شخصیت محترمہ عائشہ علی قونصل جنرل آف پاکستان کو مدعو بھی کیا جاتا ہے اوروہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پہنچ بھی جاتی ہیں ۔ کیا گلیوں میں پرچم کشائی اور قونصل جنرل کی تشریف آوری ، قومی پرچم اور خود قونصل جنرل سمیت تمام پاکستانیوں کی توہین نہیں ۔ کیا ہم اتنے لاچار اور بے وقعت لوگ ہیں کہ متفقہ طور پر ایک بڑے اجتماع کا انعقاد بھی نہیں کرسکتے ۔ کم از کم محترمہ عائشہ علی کو اپنے مرتبے اور قومی وقار کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے ان چھوٹی چھوٹی تقریبات میں جانے سے گریز کرنا چاہیے تا کہ دیار غیر میں ہماری جگ ہنسائی نہ ہو ۔