سینیٹ انتخابات میں "آزادانہ بولیاں”، شیخ کی ناکامی اور گیلانی کی کامیابی نے کئی راز فاش کر دئیے

سیانے کہتے ہیں کہ”آغاز سے پہلے ایک نگاہ انجام پر بھی ڈال لینا انسان کے لئے بہتر ہوتا ہے اور اپنے کسی بہت ہی پیارے کے ساتھ مذاق کرنے سے قبل کم از کم سو بار تو ضرور سوچ ہی لینا چاہئے کیونکہ تمام جھگڑے ہنسی مذاق کے بطن سے ہی جنم لیتے ہیں“مگر چونکہ آج کل ہماری سیاست میں سیانے پائے ہی نہیں جاتے لہٰذا سیاست کے متعلق یہ ہی سیانے کچھ یوں فرماتے ہیں کہ”سیاست میں تمام مذاق ”سیاسی جھگڑے“ کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں“یعنی 2 سیاسی جماعتوں کے درمیان جتنے مضبوط اور قدیم سیاسی جھگڑے ہوں گے یقینا پھر سیاسی مذاق بھی اُتنا ہی واہیات اور ہنسا ہنسا کر رلا دینے والا ہو گا،حیران کن طور پر سندھ کی سیاست کی حد تک تو سیانوں کی یہ بات اس بار بھی 100 فیصد درست ثابت ہوئی ہے اور واقعی تازہ ترین ”سیاسی مذاق“ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے دیرینہ”سیاسی جھگڑے“ کی سنگینی،شدت اور طوالت کی پوری طرح سے عکاسی بھی کرتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے سینیٹ کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کی نشست پر سیاسی تعاون کرنے کی شرط پر ایم کیو ایم پاکستان کو 2 نشستوں کے ہمراہ کراچی میں بلدیاتی اختیارات دینے کی پیشکش کی ہے جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی کے حقوق کی جدوجہد پی ڈی ایم کے سیاسی پلیٹ فارم سے کریں گے تو انہیں”سیاسی افاقہ“ حاصل ہو گا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ایک وفد نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے درخواست کی ہے کہ چونکہ سندھ حکومت نے اُن کے اراکین اسمبلی کی سکیورٹی فوری طور پر ختم کر دی ہے جس کی وجہ سے انہیں سنگین سکیورٹی خدشات لاحق ہیں لہٰذا انہیں وفاق کی جانب سے خصوصی سکیورٹی فراہم کی جائے۔یکے بعد چند لمحوں کے تفاوت سے میڈیا کی زینت بننے والی ان خبروں سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات کو لے کر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے مابین ”سیاسی مذاق“ سنجیدگی کے کون سے آسمان پر پہنچ چکا تھا بہرکیف سندھ کی 2 بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی تعاون کا منظر اس قدر مزاحیہ ہے تو عوام کیلئے اصل فکر اور پریشانی کی بات تو یہ ہونی چاہئے کہ اگر خدانخواستہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان حقیقی سیاسی عدم تعاون شروع ہو جائے تو پھر سندھ کی سیاست کا پیش منظر کیا ہو گا؟۔

پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ میں صرف اپنے ووٹ ملتے تو اس کی سینیٹ کی 6 نشستیں بنتی تھیں لیکن سندھ میں سیاسی مفاہمت کے تازہ ترین دور کا آغاز ہونے کا بعد یہ نیا بندوبست ہوا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ سے 6 کے بجائے با آسانی سینیٹ کی 7 عدد نشستیں حاصل ہو گئیں ہیں یقینا یہ کمال وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی انتظامی صلاحیتوں کا ہی ہے کہ جنہوں نے بروقت تحریک انصاف کے اہم ترین رہنما حلیم عادل شیخ جیل کی چار دیواری تک پہنچا کر تحریک انصاف کی صفوں میں سراسیمگی پیدا کر دی جس کے باعث سندھ سے پیپلز پارٹی 6 کے بجائے7 نشستیں کمال سیاسی مہارت و مفاہمت سے جیت جانے میں کامیاب ہو گئی ہے دوسری جانب پیپلز پارٹی سینیٹ کی اضافی نشستوں کے حصول کیلئے بلوچستان میں اس غیر معمولی سیاسی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی جس کے پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے دعویٰ کئے جا رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان میں بھی پیپلز پارٹی کی سیاسی تمنائیں کماحقہ پورا ہونے سے اس لئے رہ گئیں ہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) ابھی تک مقتدر حلقوں کی نظروں سے اس قدر نہیں گری ہے کہ اس کے سارے ووٹ ہی پیسے کی طاقت سے خرید لئے جاتے بلاشبہ باپ پارٹی کی اپنی زیادہ تر سینیٹ نشستیں جیت جانے کی وجہ سے سینیٹ کے ایوان میں تحریک انصاف کم از کم معمولی سی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو ہی گئی ہے،واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کو سینیٹ میں ملنے والی سادہ اکثریت اپوزیشن جماعتوں کو ایوان بالا میں دیوار سے لگانے کے لئے کافی و شافی ”سامان سیاست“ ہر گز مہیا نہیں کر سکے گی بلکہ الٹا اب تو تحریک انصاف کو سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا دباؤ مسلسل برداشت کرنا ہو گا تاہم سینیٹ انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کا کھیل ختم نہیں بلکہ شروع ہوا ہے۔

سندھ کی سیاست پر سینیٹ انتخابات کے ممکنہ نتائج کے انتہائی دور رس مثبت یا منفی سیاسی اثرات مرتب ہونے کی قوی امکانات پائے جاتے ہیں کیونکہ اگر عمران خان سینیٹ کے ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو وہ سب سے پہلے 18 ویں ترمیم میں ردو بدل یا پھر اس کی تنسیخ کا اقدام ہی کرتے اور یہ اندیشہ اس لئے بھی عین قرین قیاس لگتا تھا کہ گزشتہ 3 برس کے دوران بطور وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک سے زائد بار اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں۔
وفاقی حکومت کی مثالی انتظامی کارکردگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ 18 ویں ترمیم ہے۔لہٰذا حالیہ سینیٹ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت 18 ویں ترمیم کی آئینی زندگی کے لئے یقینی طور پر موت کا پروانہ ثابت ہو سکتی تھی اور اس بات کا بخوبی ادراک پیپلز پارٹی کو قیادت کو بھی ہے یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی،اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے ساتھ مل کر سینیٹ کے ایوان میں تحریک انصاف کو اقلیتی جماعت میں بدلنے کا ناقابل یقین اَپ سیٹ کر دکھایا یوں اب 18 ویں ترمیم کی متوقع آئینی موت کے خطرات بھی وقتی طور پر ٹل گئے ہیں۔
سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن اتحاد کی کامیابی نے سندھ حکومت کے حوصلے بھی خوب بلند کر دیئے ہیں۔جس کے مثبت اور منفی اثرات سندھ کے سیاسی منظر نامے میں جلد ہی ملاحظہ کے لئے دستیاب ہوں گے۔
یاد رہے کہ حفیظ شیخ کی عبرت ناک شکست اور یوسف رضا گیلانی کی فقید المثال جیت نے جس طرح سے تحریک انصاف کی حکومت کے اعتماد کے پرزے پرزے کئے ہیں یقینا وہ مناظر پاکستانی سیاست میں مدتوں یادگار رہیں گے کیونکہ گزشتہ 3 برسوں کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے متحدہ اپوزیشن کو اپنے خلاف کسی ایک محاذ پر بھی جیت کا معمولی سا مزہ بھی چکھنے نہیں دیا تھا مگر اتنی پے درپے سیاسی شکستوں کے بعد اچانک سے سینیٹ انتخابات میں ایک ناقابل یقین اور غیر معمولی فتح نے کم از کم اس بات پر تو پوری طرح سے مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے پاس”سیاسی تجربہ“ عمران خان سے کہیں زیادہ ہے مگر دوسری جانب حالیہ سینیٹ انتخابات میں آزادانہ خرید و فروخت نے یہ تلخ حقیقت بھی عوام پر آشکار کر دی ہے کہ پاکستان میں ”توازن“ شاید اب کبھی بھی درست نہیں ہو سکے گا۔