کیا امریکہ دنیا کی سپر پاور رہ پائے گا؟

کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی انٹیلی جنس اس حد تک مضبوط ہے کہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی ہے اسی لئے وہ ہر ایک کے معاملے میں ٹانگ اڑا کر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کی روش پر گامزن رہتا ہے۔لیکن کورونا میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس کی تمام پیشین گوئیاں اور اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں اور اب کورونا سب سے بڑی مصیبت امریکہ کے لئے بنا ہوا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی طرح وہاں بھی طبی سہولیات کی کمی کا شکوہ عام ہے۔ امریکی حکومت کی بے بسی عالمی سیاست اور آنے والے دور کے نئے مسائل کا پیش خیمہ ہے۔ کورونا نے یوں تو تمام دنیا کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن شرح اموات کے اعتبار سے امریکہ سرِ فہرست ہے۔

ہر ایک کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو چکا ہے کہ دنیا جن کے اشاروں پر ناچتی تھی، اب وہی سب سے زیادہ بے بس اور لاچار کیوں ہیں؟ ایک وائرس نے انہیں ان کے درجے سے نیچے گرا دیا ہے۔ یونائیٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ کی حقیقی ناکامی کی وجہ اس کی ترقی کا عدم مساوات پر مبنی ماڈل ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت کے عروج پر پہنچ کر امریکہ کو یاد ہی نہیں رہا کہ دنیا میں جمہوری نظامِ حکومت کا قیام عوامی فلاح کے تصور پر قائم ہوا تھا مگر سوویت یونین کے زوال کے ساتھ امریکہ کو یہ سبق یاد دلانے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ ایک بار ہٹلر ایوان میں ایک مرغی لے کر آگیا اور سپیکر کے ڈائس کے سامنے اس کے پر نوچنے لگا وہ بڑی تکلیف میں تھی لیکن اس نے اس کے سارے پر نوچ کر اسے نیچے چھوڑ دیا پھر اس کے سامنے دانہ ڈالتے ہوئے آگے آگے چلنے لگا حتیٰ کہ مرغی وہ دانا چگتے ہوئے اس کے پاؤں میں آگئی ہٹلر نے سپیکر سے کہا جمہوریت میں عوام کی ایسی حالت ہوتی ہے پہلے اسے نوچا جاتا ہے پھر اسے تھوڑا تھوڑا دیا جاتا ہے۔ امریکہ کی بالکل ایسی ہی صورتحال ہے۔ اس نے تعلیم، صحت، فلاحِ عامہ کے کاموں کے مقابلے میں جنگی اسلحہ تیار کرنے اور اس کے سہارے پوری دنیا کی سرداری کا خواب دیکھا۔ پس ماندہ ملکوں سے لے کر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک امریکہ کے زیرِ اثر رہے۔ اس عروج میں امریکہ کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ اس کی ترقی حقیقت میں یک رخی ہو گئی ہے۔ اسے اپنی جنگی طاقت اور خوف ناک دفاعی تیاریوں کی دھونس سے پوری دنیا کو زیر کرنا تھا، اور اس نے ایسا کر دکھایا۔

لیکن روس کے انہدام کے بعد امریکہ نے دنیا پر جو دائمی حکمرانی کا خواب دیکھا تھا وہ خواب شائد اب اپنے انجام کو پہنچنے کو ہے۔ ستمبر 2020ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں امریکہ نے چین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کے ردِ عمل میں چینی سفیر نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ دنیا کی جدید ٹیکنالوجی اور نظام رکھنے کے باوجود کورونا کے دنیا میں سب سے زیادہ کیسز رکھتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ دنیا میں مکمل طور پر تنہا ہے۔ اس جملے کی روسی نمائندے نے بھی حمایت کی۔ چین نے نہایت وسیع معیشت کے سہارے بیرونی دنیا تک پھیلے عسکری پنجے، بنیادی ڈھانچے میں بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے ذریعے اپنا معاشی دائرہ اور عالمی اداروں میں اہم عہدوں پر رسائی بہت تیزی سے حاصل کی ہے۔ یہ سب اس وقت ہوا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغرب اور باقی دنیا میں اپنے اتحادیوں سے خود کو فخریہ اندازمیں الگ تھلگ کرتے ہوئے مسلسل کثیر الجہتی تجارت کے نظرئیے کو مسترد کر دیا۔ کورونا وائرس کے اثرات چین کے حق میں نکلے۔ دوسرے ممالک کی بہ نسبت چینی معیشت تیزی سے سنبھلی۔ صدر ژی ژن پنگ کی حکومت نے طبی سامان کی فراہمی کے ذریعے خود کو عالمی لیڈر کے روپ میں پیش کیا ہے۔ کورونا وائرس کی ابتدائی خبروں پر امریکہ نے اپنی دیرینہ رقابت کی بنا پر مذاق اڑایا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کم از کم کورونا سے لڑنے کے مرحلے میں امریکی چودھراہٹ تو چکنا چور ہو گئی۔ امریکہ تو اپنے کسی دوست ملک کی مدد بھی نہیں کر پا رہا ہے۔ جب کہ چین اپنے دوست ممالک خصوصاً پاکستان میں پیش پیش ہے۔ امریکہ اپنے عوام کو بے بس اور لاچار مرنے دے رہا ہے تو دوسروں کی مدد کیا کرے گا۔ کورونا نے آگاہ کر دیا کہ اپنے عوام اور عام لوگوں کی فلاح و بہبود کی قیمت پر کوئی بھی حاصل شدہ ترقی بے کار ہے۔ امریکہ اپنے جس طاقتور حریف کو پروپیگنڈا کر کے اور جھوٹ کی بنیاد پر کورونا کا ذمہ دار ٹھہرا رہا تھا اس نے اپنی ابتدائی اور فوری تیاریوں کی وجہ سے تین مہینوں میں قابو پا لیا۔ چین بہت جلد اپنے آپ کو نئے سرے سے کھڑا کر لے گا اور آنے والے وقت میں نڈھال اور ٹوٹے پھوٹے امریکہ کو چیلنج کر کے زیر کر ڈالے تو اسے غیر متوقع نہیں کہا جا سکتا۔ تب کورونا کو یقیناً تیسری عالمی جنگ کہا جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کی طرف سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق چین نے نئی براہِ راست سرمایہ کاری میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ گزشتہ سال بیرونِ ملک مقیم کمپنیوں کی طرف سے امریکہ میں ہونے والی نئی سرمایہ کاری میں تقریباً نصف کے قریب کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس کی پہلی پوزیشن جاتی رہی۔ اس کے برعکس اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق چینی فرموں میں براہِ راست سرمایہ کاری 4 فیصد بڑھی۔ جو اسے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر لے آئی۔ اعلیٰ درجہ بندی معاشی طور پر دنیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تجارت و ترقی کے بارے میں کانفرنس ( یو این سی ٹی اے ڈی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین میں گزشتہ سال 163 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں امریکہ کے حصے 134 ارب ڈالر آئے ہیں۔ 2019ء میں امریکہ میں غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کی آمد 251 ارب ڈالر تھی جب کہ چین نے 140 ارب ڈالر حاصل کئے تھے۔ اگر چہ چین نئی غیر ملکی سرمایہ کاری میں اول نمبر پر آ گیا ہے لیکن امریکہ اب بھی مکمل غیر ملکی سرمایہ کاری میں سب سے اوپر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار عالمی معیشت کے مرکز کی طرف جانے کی چین کی کوششوں کی نشاندہی کرتے ہیں جس پر دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کا طویل عرصے سے غلبہ رہا ہے۔ برطانیہ میں قائم سنٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ کے مطابق چین جو فی الحال امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ میں پھنسا ہوا ہے، 2028ء تک پہلے نمبر پر پہنچ سکتا ہے۔ چینی حکومت ترقی کی شرح میں اضافے کے لئے کئی ایک اقدامات کر رہی ہے ۔ 2016ء میں امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری عروج پر تھی جو تقریباً 472 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس وقت چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری صرف 134 ارب ڈالر تھی ۔ اس کے بعد سے چین میں سرمایہ کاری تواتر سے بڑھی ہے جب کہ 2017ء سے امریکہ میں گرنا شروع ہو گئی ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان فی الوقت ایسا لگتا ہے کہ کئی محاذوں پر جنگیں لڑی جا رہی ہیں ایک تو تجارتی محاذ پر دونوں ملکوں کے درمیان نہ دکھائی دینے والی جنگ جاری ہے دوسری طرف سفارتی جنگ میں بھی ممالک مصروف ہیں۔ کورونا وائرس عالمی معیشت کو زبردست دھچکا پہنچایا۔ عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے جہاں عالمی معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ہر ملک معاشی انحطاط کا شکار نظر آتا ہے لیکن چینی معیشت پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ دنیا کے کم از کم 50 ممالک کو قرض دئیے ہوئے ہیں۔ اس کے خفیہ قرضوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے دئیے گئے قرضوں سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ کو یہ خوف لاحق ہے کہ چین بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا کے سونے کے ذخائر پر اس کی نظریں مرکوز ہو گئی ہیں۔ ان حالات میں چین کو عالمی برادری سے الگ تھلگ کرنے کی خاطر مبصرین کے مطابق امریکہ نے الزام تراشیوں اور پروپیگنڈا کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ امریکہ میں جو بائیڈن برسرِ اقتدار آ گئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ چین کے ساتھ معاملات کو کیسے آگے بڑھاتے ہیں۔