خلیج کی تیزی سے بدلتی صورت حال اور پاکستان

صدر ٹرمپ کے وائٹ ہائوس چھوڑنے کے بعد خلیج کے حالات میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ صدر بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ یمن کی جنگ اب بند ہونی چاہیے اور یہ کہ امریکہ یمن میں کسی جارحانہ اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔ اسی طرح سے نئی امریکی حکومت ایران کے ساتھ 2015 ء والا جوہری معاہدہ بعض تبدیلیوں کے ساتھ بحال کرنا چاہتی ہے۔امریکہ نے انسانی حقوق کے حوالے سے بھی بعض خلیجی ممالک کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پاکستان کے لیے خلیجی ممالک بے حد اہم ہیں‘ یہاں ہمارا قبلہ ہے جس کی طرف ہم روزانہ پانچ مرتبہ رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں۔ یہاں مدینہ منورہ ہے۔ بغداد‘ نجف کر بلائے معلی اور مشہد ‘سب اس خطے میں ہیں۔ خلیجی ممالک میں ہمارے پچاس لاکھ ورکر ہیں جو پاکستان میں اپنے فیملی ممبرز کی کفالت کر رہے ہیں۔ پاکستان کی مجموعی ترسیلات کا ساٹھ فیصد حصہ اسی خطے سے آتا ہے۔ ہوائی پروازوں کے لیے یہ بے حد مصروف سیکٹر ہے۔ روزانہ درجنوں طیارے پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان محو پرواز رہتے ہیں۔ محل وقوع کے اعتبار سے پاکستان ان ممالک کے لیے بے حد اہم ہے کیونکہ ہمارا ملک آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ کم لوگوں کو پتا ہو گا کہ گوادر اور مسقط کے درمیان کا سمندری فاصلہ صرف چار سو پینتیس کلومیٹر ہے اور یہ اسی قربت کی وجہ سے ہے کہ جب بھی خلیج کے پانیوں میں اُبال آیا ہے تو حرارت لامحالہ پاکستان تک پہنچی ہے۔
اگلے روز اسلام آباد کی یونیورسٹی نسٹ (NUST) نے ایک معروف ترک تھنک ٹینک ORSAM کے ساتھ مشترکہ Webinarیعنی آن لائن سیمینار کا اہتمام کیا۔ موضوع تھا ”خلیج میں حالات کا نارمل ہونا‘ ترکی اور پاکستان کی نظر میں‘‘۔ نظامت کے فرائض سابقہ فارن سیکرٹری جناب ریاض کھوکھر نے ادا کئے اور مجھے پاکستانی مؤقف پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔
قارئین کو علم ہو گا کہ پچھلے ماہ قطر اور تین خلیجی ممالک کی ساڑھے تین سال کے مقاطعے کے بعد صلح ہوئی ہے۔ صلح کرانے میں کویت اور امریکہ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ 2017ء میں جب ان ممالک نے دوحہ میں اپنے سفارت خانے بند کیے تھے تو صدر ٹرمپ نے اس امر کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ پچھلے ماہ صلح کے نتیجے میں امیرِ قطر سعودی عرب میں منعقد ہونے والے خلیجی تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کے لیے گئے۔ قطر کو 2017ء میں ان ممالک کی طرف سے 2017ء میں 13 مطالبات پیش کئے گئے تھے‘ جن میں الجزیرہ ٹی وی چینل کو بند کرنا اور ترک فوجی بیس کا خاتمہ شامل تھے۔ یاد رہے کہ قطر میں اس وقت بھی تین ہزار ترک فوجی تعینات ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی بھی چل رہا ہے‘ قطر کا مؤقف ہے کہ یہ دونوں مسئلے اُس کے اقتدارِ اعلیٰ سے جڑے ہوئے ہیں۔
خلیجی ممالک میں صلح کا پورے خطے پر مثبت اثر پڑا ہے۔ ترک صدر طیب اردوان کا عرصے کے بعد سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی بھی عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید سے فون پر بات ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ قطر اب ایران اور خلیجی ممالک کے مابین غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کے لیے مثبت رول ادا کرے گا۔پاکستان کی طرف سے بولتے ہوئے میرا استدلال تھا کہ عربوں کے آپسی جھگڑوں سے علیحدہ رہنا پاکستان کی سٹینڈنگ پالیسی ہے۔ جب بھی دوستوں کی لڑائی ہوئی تو متحارب پارٹیوں نے پاکستان کو اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کی اور اس کی واضح مثال عراق ایران جنگ تھی۔ پاکستان نیوٹرل رہا تو دونوں ممالک ہم سے ناراض ناراض نظر آئے۔ صدام حسین نے 1990ء میں کویت پر دھاوا بولا تو ہزاروں پاکستانیوں کو کویت چھوڑنا پڑا۔ بے شمار خاندان در بدر ہوئے‘ لہٰذا پاکستان صلح جوئی کو ملٹری آپشن پر ترجیح دیتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ ہماری پارلیمنٹ نے یمن میں پاکستانی فوج بھیجنے سے معذرت کر لی تھی۔
اس آن لائن سیمینار میں پاکستان اور ترکی کے علاوہ چند اور ممالک سے بھی لوگ شریک تھے۔ لندن سے ایک تھنک ٹینک کے نمائندے بولے کہ پچھلے چند سالوں میں پاکستان کا خلیجی ممالک کے ساتھ عسکری تعاون کم ہوا ہے۔ میرا جواب تھا کہ اس کی بڑی وجہ معروضی حالات ہیں۔ خلیجی ممالک کی عسکری ٹریننگ میں پاکستان کا یقینا بڑا رول رہا ہے لیکن اب ان ممالک کی افواج اس لیول پر آ گئی ہیں کہ انہیں بیرونی ٹریننگ کی ضرورت کم ہے یعنی تربیت کے اعتبار سے وہ بڑی حد تک خود کفیل ہو چکی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تقلیدی جنگ کا زمانہ ختم ہو رہا ہے۔ اب جنگ ہوائی جہازوں اور ٹینکوں کے بجائے بیانیے‘ پروپیگنڈے اور ڈرون حملوں سے لڑی جائے گی۔ دشمن کو اندر سے اقتصادی‘ سیاسی اور سماجی طور پر کمزور کیا جائے گا۔مگر ان بدلتے ہوئے حالات میں بھی پاکستان کی عسکری اہمیت کم نہیں ہوگی خصوصاً نیوی کے حوالے سے۔ انرجی وسائل کی خلیج سے ایکسپورٹ اور سمندری پانیوں کی سکیورٹی ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ پاکستان کا مثبت رول اس لحاظ سے مسلمہ ہے۔ہم کئی سال سے بحرین میں قائم انٹرنیشنل نیول فورس کا حصہ ہیں جو خلیج سے لے کر جبوتی تک بحری قزاقوں اور دیگر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سرگرم عمل رہتی ہے‘ اور جب سی پیک فعال ہو گا تو ان ممالک کا تیل پاکستان کے راستے سے چین جائے گا اور چینی مصنوعات پاکستان کے راستے سے خلیجی ممالک پہنچیں گی۔ ویبینار میں اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان قائم ہونے والے سفارتی و تجارتی تعلقات کا بھی ذکر آیا۔ پاکستان کی طرف یہی کہا گیا کہ اگر عرب کچھ صبر کر کے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ طور پر بات کرتے ہوئے اس مطالبے پر قائم رہے کہ پہلے فلسطینیوں کے جائز حقوق بحال کئے جائیں تو پوری عرب دنیا بلکہ عالم ِاسلام کے لیے بہتر ہوتا ۔ پھر اس مصالحت کا ذکر آیا جس کا ہر کسی کو انتظار ہے اور جو موجودہ پیچیدہ حالات میں مشکل بھی ہو گئی ہے اور وہ ہے ایران اور خلیجی ممالک کے مابین صلح اور یہ صلح پاکستان کے لیے بے حد اہم ہے کیونکہ اگر خدانخواستہ خلیج میں ایک اور عرب عجم جنگ چھڑتی ہے تو پاکستان نہ صرف سیاسی طور پر بہت مشکل پوزیشن میں ہوگا بلکہ ہمارے ورکرز کے روزگار پر بھی منفی اثرات پڑیں گے۔
ترکی کی جانب سے بھی اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ خلیج میں امن‘ صلح اور باہمی تعاون تمام امتِ مسلمہ کے لیے خوش آئند ہوگا۔ ویبینار سے ترکی کی جانب سے ایک صاحب کو پاک ترکی دو طرفہ تعلقات پر اظہارِ رائے کی دعوت دی گئی۔ موصوف انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ فارن سیکرٹری ریاض کھوکھر کا کہنا تھا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات مثالی ہیں۔ دونوں ممالک یک جان اور دو قالب ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دو طرفہ تجارت کو فروغ دیا جائے اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان اور ترکی کے مابین براستہ ایران ذرائع مواصلات کو ماڈرن بنانا ضروری ہے۔ ترکی کی جانب سے کہا گیا کہ کلچر اور سیاحت میں پاک ترک تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں اور بات صرف ترک ڈراموں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ ترکی میں سیاحت کو انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے‘ پاکستان اس شعبے میں ترکی سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔