امریکہ میں پاکستانی میڈیا ناکام کیوں..؟؟؟؟

صحافت کسی بھی ملک میں ستون کی حیثیت رکھتی ہے لیکن معاشرتی دلچسپی کی وجہ سے اس کی مقبولیت اور کمی ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ میڈیاصرف خبروں کی حد تک محدود نہیں ہوتا بلکہ قارئین کے علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ان کی لائبریری کا کام بھی انجام دیتا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف ضرب مثل کلمات ،قائد ، علامہ اقبال کا فرمان قارین کی تربیت میں بنیادی کردار اد ا کرتے ہیں ، کسی بھی اخبار کا ادرایہ اور کالم قارئین کے نقطہ نظر کو تقویت دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ۔
پاکستان اور امریکہ کی صحافتی اقدار میں بنیادی فرق تو خاص نہیں لیکن معاشرتی دلچسپی کا عنصر ضرور مختلف ہے کیونکہ پاکستان میں یہ سہولتیں (اخبار اور ٹی وی )لوگ خرید کر دلچسپی اور لگاﺅ کے ساتھ پڑھتے اور دیکھتے ہیں جبکہ امریکہ میں ایسا نہیں۔ پاکستان میں لوگوں کی سیاست میں دلچسپی اس حد تک عروج پر ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا مالکان عوام کی اسی دلچسپی کی بدولت پیسے میں کھیل رہے ہیں ۔دنیا بھر میں امیگرینٹس کے میڈیا کو خاصی پذیرائی حاصل رہی ہے اور اب تک ہے لیکن امریکہ جیسی سپرپاور اور خوابوں کو پورا کرنے والی ریاست میں ایشیائی بالخصوص پاکستانی میڈیا کی تنزلی سمجھ سے بالاتر ہے ۔
اب یہاں امریکہ میں صرف قومی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات کو ہی لے لیجئے ۔ان کی زبوں حالی کی بہت سی وجوہات ہیں جن پر دل خون کے آنسو رو تا ہے ۔ ایک وقت تھا جب امریکہ میں مضبوط اورجاندار صحافت کے نتیجے میں ”پاکستان ایکسپریس “اور” پاکستان پوسٹ “کا طوطی بولتا تھا ۔ لوگ ہفتہ بھر نئے شمارے کے شدت سے منتظر رہتے تھے ۔ ٹیلی فون پر رابطے کر کے معلوم کیا جاتا تھا کہ اگلا شمارہ کب آ رہا ہے ۔ ایسا عروج جس نے مالکان کو بھی دماغی طور پر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا ۔”پاکستان پوسٹ“ جیسا اخبار ”امریکہ کا جنگ اخبار“ کہلانے لگا۔ پھر ناجانے کیا ہو ا،پاکستانی میڈیا (پرنٹ و الیکٹرانک) پر زوال کے سائے منڈلانے لگے ۔ صحافت کے میدان میں بڑے بڑے سورما ،طبع آزمائی کے بعد اچانک منظر سے غائب ہوتے چلے گئے۔اس کے برعکس انڈین ، بنگلہ دیشی اور دیگر ممالک کے میڈیا کا ستارہ بدستور عروج پررہا اور تاحال کافی حد تک انہوں نے اپنی ساکھ کو بحال رکھا ہے۔
اس صحافتی زوال کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں ۔اس زوال کوپاکستانی میڈیا مالکان کا غرور کہیں،عدم توجہی کہیں یا ان کی کمزور صحافت کہیں، حقیقت جو بھی ہو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان کا نام صحافتی منظرنامے سے غائب ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاکستانی میڈیاکے اس زوال میں کافی حد تک امریکہ بھر میں مقیم پاکستانیوں کا بھی ہاتھ ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق نیویارک میں اس وقت تین لاکھ کے قریب پاکستانی کمیونٹی رہائش پذیر ہے۔اتنی تعداد ہونے کے باوجود میڈیا ہاؤسز کو بالکل بھی سپورٹ حاصل نہیں ۔ انڈین اور بنگلہ دیشی کمیونٹی اپنی زبان میں شائع شدہ اخبارات پیسوں کے عوض خرید کر پڑھتی ہے اور ان کی سپورٹ کیلئے انہیں بڑی تعداد میں اشتہارات دیتی ہے لیکن جب بات آتی ہے پاکستانی کمیونٹی کی تو اس کی جانب سے پاکستانی میڈیا ہاؤسز کو اشتہارات دینا تو درکناران کی طرف سے شائع شدہ مفت اخبارات بھی پڑھنے کو ترجیح نہیں دی جاتی ۔ کمیونٹی کی مالی سپورٹ(اشتہارات کی صورت میں) نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی میڈیا کا کنگ کہلانے والا آفاق خیالی جیسا جید صحافی بھی اس سونامی میں بہہ گیا ہے۔اس کے علاوہ بہت سارے میڈیا مالکان اپنے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
میڈیا ہاؤسز کی اس بندش میں بہت زیادہ حد تک کمزور صحافت کا عنصر بھی غالب ہے ۔اب اگر دیکھا جائے تو موجودہ صحافی حضرات صحافتی اطوار کو بھول کر فوٹو جرنلزم پر توجہ دینے لگے ہیں۔اب ان کے اخبارات (جوچند شائع ہوتے ہیں ) صرف کمیونٹی کے تصویری میگزین بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ فوٹو جرنلسٹ چند ڈالرزکے عوض پورے پورے صفحات تصویری کوریج کی صورت میں بیچ رہے ہیں ۔بڑی بڑی پوسٹر نما دیو ہیکل تصاویر اب صفحات کی رونق بنی ہوئی ہیں۔مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ انہیں اکثر اوقات ان شائع شدہ تصویری صفحات کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ صحافتی مواد جو ان اخبارات کا خاصہ ہواکرتا تھا اب دور دور تک دکھائی نہیں دیتا جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔
میڈیا کے اس زوال ایک وجہ امریکہ میں موجود پاکستانی سفارتخانے کی عدم دلچسپی بھی کہی جاسکتی ہے۔اس صورتحال کی پاکستانی سفارتخانے پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی زبان میں شائع ہونے والے اخبارات اور چلنے والے ٹی وی چینلوں پر نظر رکھے ۔خاص طور پران سے منسلک صحافیوں سے تعلقات کو استوار کرے اور ان کی مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے ۔ جو میڈیا ہاؤسز مالی مشکلات کا شکار ہیں انہیں معالی معاونت فراہم کی جائے ۔اس سے یہ ہو گا سفارتخانے اور صحافیوں کے درمیان ایک مثبت تعلق اُجاگرہونے کے ساتھ ساتھ ان کو اخبارات کے معاملات چلانے میں جو دشواریاں درپیش ہیں ان کا مناسب تدارک ہو سکے گا۔
موجودہ دور میں ناصرف پاکستانی بلکہ اجتماعی سطح پرمیڈیا ہاؤسز کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے۔سوشل میڈیا جیسے فیس بک ، ٹویٹر، انسٹاگرام جیسی بے شمار ایپلی کیشنز نے عوام کو پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا سے کوسوں دور کر دیا ہے ۔لوگ اس جدید ٹیکنالوجی کی چکا چوند میں بہتے چلے جار ہے ہیں۔ ہر کوئی اس دھن میں ہے کہ اس کی لکھی ہوئی تحریر، تصویراور ہر طرح کی سوشل سرگرمی فی الفور پوری دنیا میں پھیل جائے ۔ لوگوں کو آنکھ جھپکتے ہی مکمل آگاہی ہو جائے۔سوشل میڈیا کسی حد تک اس میں کامیاب تو ہے لیکن اس کامیابی کی بدولت عوام میں عدم برداشت، بے صبری ، جلد بازی جیسی خاموش بیماریاں جڑ پکڑ رہی ہیں جو کہ ایک بڑی معاشرتی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
پاکستانی صحافیوں کو چاہئے کہ وہ اپنی شناخت کو زندہ رکھنے کیلئے اپنے اخبارات میں عوامی خبروں کے علاوہ پزل گیم یا بچوں کے لیے تفریحی سرگرمیوں کو زیادہ فروغ دیں اور امریکہ کی کمیونٹی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے اخبارات میں تھوڑی جگہ انگریزی صحافت کو بھی ضرور دیں تاکہ ایسے پاکستانی جو کہ انگریزی صحافت کو ترجیح دیتے ہیں وہ بھی ان کے حلقہ احباب میں شامل ہو سکیں اور آخر میں صحافت تو ہے ہی جدوجہد کا نام جوکہ کبھی ختم ہونے میں نہیں آتی ہر دن نیا دن ہوتا ہے اور ہر دن کو پہلے سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کرنا پڑتی ہے ۔ پاکستانی صحافیوں کو ذاتی مفادات اور ترجیحات سے ہٹ کر مثبت صحافت کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر ہو۔