براڈ شیٹ پر ایک نظر

شریف الدین پیرزادہ عرف عام میں جدہ کے جادوگر کہلاتے تھے‘ یہ ملک کے واحد قانون دان تھے جو قانون سے ہر قسم کی گنجائش نکال لیتے تھے چناں چہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک یہ ملک کے ہر آمر کے دست راست رہے۔

جنرل ضیاء الحق مرشد جب کہ جنرل پرویز مشرف انھیں باس کہتے تھے‘ جنرل پرویز مشرف نے 1999 کے ’’ٹیک اوور‘‘ کے بعد باس کو ’’ٹیک اوور‘‘ کی قانونی گنجائش پیدا کرنے کی ذمے داری سونپ دی اور پیرزادہ صاحب نے ان کے ہاتھ میں احتساب کی لاٹھی تھما دی‘ ان کا فرمانا تھا ’’آپ کے لیے صرف دو لوگ خطرناک ہیں‘ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف اور یہ دونوں صرف احتساب کی لاٹھی سے مارے جا سکتے ہیں‘‘ جنرل مشرف کو یہ نسخہ پسند آگیا چناں چہ احتساب بیورو کو ایک ہفتے میں نیب بنا دیا گیا اور لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد کو چیئرمین بنا دیا گیا۔

جیری جیمز (Jerry James) اور ڈاکٹر ڈبلیو ایف پیپر (Pepper) یہ دونوں معمولی درجے کے امریکی وکیل تھے اور یہ شریف الدین پیرزادہ کے دوست تھے‘ یہ تیسری دنیا کے ملکوں پر نظر رکھتے تھے‘ انھیں پاکستان میں احتساب کی اطلاع ملی تو انھوں نے براڈ شیٹ ایل ایل سی کے نام سے آف شور کمپنی رجسٹر کرائی اور یہ شریف الدین پیرزادہ کے ذریعے جنرل پرویز مشرف تک پہنچ گئے۔
براڈ شیٹ نے جنرل پرویز مشرف کو پیش کش کی ہم آپ کے کرپٹ لوگوں کے اثاثے تلاش کریں گے اور آپ ہمیں ان اثاثوں کا 20 فیصد دے دیجیے گا‘ آفر اچھی تھی کیوں کہ پاکستان کی جیب سے دھیلا نہیں جانا تھا‘ کمپنی نے اثاثے تلاش کرنے تھے‘ 20فیصد اپنے پاس رکھ لینا تھا اور 80 فیصد نیب کو دے دینا تھا‘کمپنی نے یہ بھی بتایا ‘ہمارے پاس شریف فیملی کے پانچ ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ثبوت ہیں‘ جنرل مشرف خوش ہو گئے اور انھوں نے چیئرمین نیب کو معاہدے کا حکم دے دیا۔

فاروق آدم نیب کے پراسیکیوٹر جنرل تھے‘یہ جذباتی اور لاپروا انسان تھے‘ انھوں نے معاہدے پرنظر دوڑائی اور ہاں میں سر ہلا دیا اور یوں جنرل امجد اور ڈاکٹر ڈبلیو ایف پیپر نے معاہدے پر دستخط کر دیے‘ براڈشیٹ کے پاکستانی نمایندے طارق فواد ملک نے گواہ کی جگہ سائن کر دیے‘ نیب نے 200 لوگوں کی فہرست ان کے حوالے کر دی‘ پوری شریف فیملی‘ آفتاب احمد شیرپائو‘ جنرل زاہد علی اکبر اور ایڈمرل منصور الحق سمیت ملک کے اعلیٰ بزنس مین‘ بیوروکریٹس اور سیاست دان فہرست میں شامل تھے‘ نیب نے بھٹو فیملی کے اثاثوں کا کھوج لگانے کے لیے ایک دوسری کمپنی انٹرنیشنل ایسٹ ریکوری (IAR) کے ساتھ معاہدہ کر لیا اور یوں دونوں کمپنیوں نے کام شروع کر دیا۔

کاوے موسوی براڈشیٹ لندن کے ساتھ وابستہ تھا‘ یہ ایرانی نژاد تھا‘ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا اور ہیومن رائیٹس پر کام کرتا تھا‘ یہ اس زمانے میں پہلے ہائی کمشنر اکبر ایس بابر کے ساتھ رابطے میں تھا اوریہ بعد ازاں ہائی کمشنر عبدالقادر جعفر کے ساتھ نتھی ہو گیا‘ اکبر ایس بابر ریٹائرڈ بیوروکریٹ‘ دانشور اور پروفیسر ہیں۔ ’’جناح‘‘ کے نام سے قائداعظم پر فلم بنا چکے ہیں‘ ان کے ایک عزیز فوج میں بریگیڈیئر تھے‘ یہ اس کے ذریعے جنرل مشرف تک پہنچے اور جنرل مشرف نے انھیں برطانیہ میں ہائی کمشنر لگا دیا‘ یہ بعدازاں جناح فلم میں گھپلے کی وجہ سے بدنام ہو گئے‘ انھیں چھ ماہ بعد ہٹا کر ان کی جگہ کراچی کے مشہور بزنس مین عبدالقادر جعفر کو ہائی کمشنر بنا دیا گیا۔

یہ ملک کے نامور انڈسٹریل گروپ جعفر برادرز سے تعلق رکھتے تھے اور کراچی میں ’’انگلش سپیکنگ یونین‘‘ چلاتے تھے اور جنرل مشرف ان سے بہت متاثر تھے لہٰذا یہ ہائی کمشنر بنا دیے گئے‘ کاوے موسوی ان کے ساتھ بھی نتھی ہو گیا‘ جیری جیمز اس دوران پاکستان آتا اور جاتا رہا اور یہ بہانے بہانے سے نیب سے رقمیں بھی بٹورتا رہا‘ کرپٹ بیوروکریٹس اور بزنس مینوں نے2001میں ’’پلی بارگین‘‘ شروع کر دی‘ نیب کے اکائونٹ میں پیسے آئے تو براڈ شیٹ حصہ لینے کے لیے پہنچ گئی‘ نیب نے پوچھا ’’کون سا حصہ‘‘ جیری جیمز نے معاہدہ سامنے رکھ دیا۔

معاہدے میں لکھا تھا نیب جو بھی ریکوری کرے گا اس میں سے 20فیصد براڈشیٹ کو ادا کرے گا‘ دوسرا کمپنی نے صرف اثاثوں کی نشان دہی کرنی تھی‘ ریکوری ان کی ذمے داری نہیں تھی اور نیب ہر نشان دہی کے بعد 20 فیصد ادائیگی کا پابند ہو گا‘ نیب کو اس وقت پتا چلا ہم نے جلد بازی میں براڈشیٹ کے ساتھ غلط معاہدہ کر لیا ہے‘ ہم ہر ریکوری میں اسے 20فیصد ادا کرنے کے بھی پابند ہیں اور یہ اثاثوں کی نشان دہی کے بعد بھی 20فیصد کی حق دار ہو جائے گی‘ چیئرمین کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے تاہم یہ جیسے تیسے اس معاہدے کو 2002تک گھسیٹتے رہے۔

نیب براڈ شیٹ کو تھوڑی بہت ادائیگی بھی کرتا رہاتاہم 2003کے شروع میں یہ معاہدہ توڑ دیا گیا‘ کمپنی ثالثی کی عالمی عدالت میں چلی گئی اور کیس چلنا شروع ہو گیا‘ اس دوران ق لیگ کی حکومت بنی‘ کرپٹ سیاست دان نئی حکومت کا حصہ بن گئے اور ایڈمرل منصور الحق کے ساتھ پلی بارگین ہو گئی‘ 2007 میں این آر او ہوا‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے مقدمے ختم ہو گئے‘ جنرل مشرف کا سورج ڈوب گیا اور آصف علی زرداری طلوع ہو گئے‘ جیری جیمز نے نئی حکومت سے رابطہ کیا اور ’’آئوٹ آف کورٹ سیٹل منٹ‘‘ کا عندیہ دے دیا‘ آصف علی زرداری نے سیٹل منٹ کی منظوری دے دی اور نیب نے جیری جیمز کو ادائیگی کر کے اس سے کیس واپس لینے کا معاہدہ کر لیا۔

جیری جیمز کو کتنی رقم ادا کی گئی؟ اس سلسلے میں 50 لاکھ ڈالرز اور 15 لاکھ ڈالرز دو فگرز دی جاتی ہیںبہرحال جیری رقم لے کر چلاگیا تو پتا چلا نیب کے ساتھ فراڈ ہو گیا‘ براڈ شیٹ ایل ایل سی 2005میں ڈیفالٹ کر گئی تھی جس کے بعد جیری جیمز نے اس کے نام سے ایک نئی کمپنی بنائی‘ رقم لی اور رفوچکر ہو گیا‘ اس دوران کاوے موسوی کھل کر سامنے آ گیا اور اس نے اعلان کر دیا ‘یہ کمپنی میری ہے اور پاکستان کی میرے ساتھ کوئی ’’سیٹل منٹ‘‘ نہیں ہوئی‘ میرا ’’کلیم‘‘ قائم ہے۔

عدالت نے اس کا موقف مان لیا اور یوںکیس چلتا رہا‘ اس دوران جیری جیمز ستمبر 2011ء میں پیرس کے ایک ہوٹل کی پانچویں منزل سے نیچے گر کر مر گیا‘ یہ موت حیران کن تھی‘ لوگ اسے خودکشی بھی کہتے ہیں‘ سازش بھی تاہم جیری جیمز اس کے ساتھ ہی ماضی میں دفن ہو گیا اور پیچھے کاوے موسوی رہ گیا‘ میں آپ کو یہاں یہ بھی بتاتا چلوں‘ براڈ شیٹ 1999میں بنی تھی اور یہ 2005 میں ختم ہو گئی تھی اور اس کے پاس بظاہر پاکستان کے علاوہ کوئی کیس نہیں تھا اور نیب کے ماضی کے تمام چیئرمین یہ بھی مانتے ہیں براڈ شیٹ نے نیب کو دھوکا دینے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا تھا‘ یہ لوگ ہر میٹنگ میں کوئی نہ کوئی کہانی سنا کر مزید پیسے بٹور لیتے تھے۔

ہم اب تازہ ترین واقعے کی طرف آتے ہیں‘ پاناما کیس کا فیصلہ ہوا‘ میاں نوازشریف کو سزا ہو گئی اور کاوے موسوی نے اس سزا کے بعد واویلا شروع کر دیا ایون فیلڈ کے فلیٹس کی لیڈ ہم نے دی تھی چناں چہ مجھے حصہ دیا جائے‘اس نے 2017 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں پٹیشن بھی دائر کر دی تھی‘ پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ اس کے وکیل تھے ‘ بہرحال قصہ مختصر عالمی ثالثی عدالت نے دسمبر 2018ء میں پاکستان کو براڈ شیٹ کو 60 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا‘ عمران خان اقتدار میں آ چکے تھے۔

حکومت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر فیصلے کے خلاف لندن کی ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کر دی‘ اس دوران کاوے موسوی کے وکیل بیرسٹر ظفر علی کیوسی نے پاکستان سے رابطے شروع کر دیے‘ بیرسٹر ظفر علی خود کو ملک کے ایک مضبوط عہدے دار کا کلاس فیلو بتاتے ہیں‘ یہ متعدد مرتبہ پاکستان آئے اور وزیراعظم اور دو وزراء کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی‘ کاوے موسوی نے اس کے ذریعے دو نئے دانے پھینکے‘ اس نے دعویٰ کیا 2016 میں سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر لندن شفٹ ہوئے اور سنگا پور کے ایک بینک میں میاں نواز شریف کے ایک بلین ڈالر پڑے ہیں‘ یہ اس دانے کے ذریعے حکومت کو گھیرنا چاہتا تھا لیکن شہزاد اکبر اسے 2000 سے جانتے تھے‘ یہ اس کے جھانسے میں نہیں آئے۔

موسوی نے اس دوران ایک اور کوشش کی‘ اس نے لندن ہائی کورٹ کو درخواست دے دی نیب کورٹ نے شریف فیملی کے فلیٹس کو کرپشن قرار دے دیا ہے لہٰذا انھیں میرے حوالے کر دیا جائے‘ میں اپنا کلیم ان کے ساتھ ایڈجسٹ کر لوں گا‘ عدالت نے دو جنوری 2021 کو موسوی کی یہ درخواست مسترد کر دی تاہم پاکستان ہائی کمیشن کے اکائونٹس سے 60 ملین ڈالر نکال کر کاوے موسوی کو دے دیے اور یہاں سے نیا کھیل شروع ہو گیا‘ اپوزیشن نے حکومت سے یہ پوچھنا شروع کر دیا یہ رقم ہائی کمیشن کے اکائونٹ میں کس نے رکھوائی تھی اور عدالت کو کس نے یہ رقم نکالنے کی اجازت دی تھی اور نیب نے آج تک شریف فیملی سے کیا ریکوری کی؟

دوسری طرف کاوے موسوی روز کسی نہ کسی پاکستانی چینل کو انٹرویو دیتا ہے اور شریف فیملی‘ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کرتا ہے لیکن یہ اپنی گفتگو کے دوران ان پانچ ملین ڈالرز کا ذکر نہیں کرتا جو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے جیری جیمز کو دیے تھے‘ سمجھ دار لوگ اس کے انٹرویوز سے یہ اندازہ لگا رہے ہیں شاید یہ ہی وہ طریقہ ہے جس کے بارے میں 27 دسمبر کو آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم کی قیادت کو بتایا تھا اور کہا تھا‘ دودھ سے مکھی کو کیسے نکالا جاتا ہے؟ یہ آپ ہم سے سیکھیں! میں جب بھی موسوی کا کوئی نہ کوئی تازہ انکشاف سنتا ہوں تو میرا قہقہہ نکل جاتا ہے اور میں کھڑا ہو کر ’’ زرداری سب پر بھاری‘‘ کا نعرہ لگاتا ہوں‘ آپ بھی جب موسوی کو دیکھیں تو اٹھ کر یہ نعرہ لگا دیا کریں۔