رائی کا پہاڑ ، ہم بناتے ہیں

جی مشہور مثل ہے کہ ”رائی کا پہاڑ بنایا گیا “ یہ شائد ہمارے سیاست دانوں،الیکٹرانک میڈیا میں بیٹھے اپنے آپکو تجربہ کارکہنے والے اور عوام کو یہ ذہین ترین باور کرانے والے تجزیہ کار جنکا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ تمام دنیا ، اندرون و بیرون کمروں میں ہونے والی باتوں سے وہ واقف ہیں ۔ کچھ الیکٹرانک میڈیا کی مہربانی کہ اپنی تشہیر کیلئے وہ ایسے ایسے ”تجزیہ کاروں “ کوچالیس منٹ کے پروگرام میں دعوت دیتے ہیں جو ٹھیک ٹھاک طریقے سے ”اونچی اونچی پھینک “ سکیں۔ مجھے یا د ہے کہ جب تحریک انصاف کو دھرنے کے وقت حالیہ وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر سے یہ تاثر ملنے لگا کہ ”انگلی “اٹھنے والی ہے اور اسوقت کے وزیر اعظم اب گئے اوراب گئے ، تب ایک بہت ہی مشہور تجزیہ کار ٹی وی پر اپنے سولو پروگرام میں ناظرین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ انکی پہنچ بہت ”اوپر “تک ہے اور بات چیت سے لگتا تھا کہ وہ کسی بہت ہی ”اہم اجلاس “سے اٹھ کر سیدھے ٹی وی اسٹیشن آئے ہیں،جہاں تمام معاملات طے ہوچکے ہیں۔ وہ کہتے تھے ” بس سوٹ کیس تیار ہوگئے ہیں“ ،وزیر اعظم ہاﺅ س میں شائد یہ پروگرام ختم ہونے سے قبل ہی بریکنگ نیوز ” نواز شریف کو ہٹا دیا گیا “ پردہ اسکرین پر نمودار ہوجائے گی ۔یہ ہمارے اس قسم کے تجزیہ کار ہوتے ہیں جو کبھی باقاعدہ صحافی بھی نہیںرہے ،بس اللہ کی مہربانی سے تجزیہ کاری کا لقب حاصل کرچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں ”مچھ“ واقع میں وزیر اعظم عمران خان کے جانے کے سلسلے میں میڈیا پر ایک تماشہ لگا رہا ہے ۔وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ وہ جائینگے او ر وہ گئے ، تدفین کے ہنگامے میں جب فضاءسوگوار ہو ، دل زخمی ہوں تو دماغ بھی زخمی ہوتا ہے اور وزیر اعظم کے رتبے کو ٹھیس بھی پہنچ سکتی ہے ۔وزیر اعظم تدفین کے چند گھنٹوں بعد ہی لواحقین کے ساتھ ان کے مسائل سن رہے تھے جب وزیر اعظم چلے گئے تو اس پر بھی میڈیا میںہنگامہ کہ ”اتنی تاخیر کیوںکی ؟؟ ۔اب جبکہ میڈیا کا سوال یہ بنتا تھا کہ وزیر داخلہ جو ایک دفعہ گئے اور متاثرین نے ان سے بات کرنے سے منع کردیا تو وہ ناراض کیوںہوگئے ، پروٹوکول کا تقاضہ تھا کو وہ وزیر اعظم کے ہمراہ دوبارہ جاتے ،چونکہ یہ انکی وزارت کا مسئلہ تھا ایک مشہور تجزیہ کار کا لقب پانے والے صاحب جو میڈیا میں آنے سے قبل ایک فائیو اسٹار میں پبلک ریلیشنز کے اہم عہدے پرفائز تھے جو کسی ہوٹل کا ”اہم عہدہ “ہوتا ہے ، ”تعلقات “تو بنتے ہی ہیں ، تواسی پبلک ریلیشنز عہدے کی مہربانی سے وہ ایک دن صحافی بن گئے ، اور بنے بھی ایسے ایڈیٹر اور اخباری مالک کے تعاون سے جو ”پبلک ریلیشنز “ سے بہت پیار کرتے ہیں اور اب مشہور تجزیہ کار ہونے کا لقب حاصل کرچکے ہیں ۔ وزیر اعظم کے مچھ میں جنازوںمیں شامل ہونے کے واقع کو انہوں نے سنسنی خیز بنادیا ۔انکا ارشاد تھا کہ وزیر اعظم کو کسی نے منع کیا تھا ۔۔۔۔۔ سوال ہوا کہ کس نے منع کیا ۔۔۔۔ انکا جواب تھا کہ ’’ مجھے سب کچھ علم ہے “ مگر بتاﺅنگا نہیں ۔اسطرح الیکٹرونک چینل نے اپنی ریٹنگ بڑھا لی اور تجزیہ کار نے اپنے آپ کو بہت ہی باخبر ہونے کامحورقراردیا ۔کل ایک ٹی وی تماشہ ( ٹاک شو ) میں اس نامعلوم صحافی جس نے نواز شریف کے100ارب ڈالرز کا انکشاف کیا ہے، کسی یو ٹیوب چینل پر تو انکا کہنا تھا وہ اسے جانتے ہیں ، اس نامعلوم کا فون نمبر اور بقیہ تفاصیل انکے پاس ہیں ، تجزیہ کار بات اس انداز میں کرتے ہیں کہ سننے والوں کا ذہن ہمارے معتبر اداروں پر جاتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان حزب اختلاف پرہمارے ادارو ں کو نشانہ بنانے پر سخت تنقید کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے مگر ان تجزیہ کاروںکا کیا جائے جو عوام میں شکوک شبہات پھیلاتے ہیں ۔اس قسم کے ایک دو نہیں بلکہ کئی سینئر تجزیہ کار ہیں جو یہ برملا کہتے ہیں۔۔۔۔ ”میں کل بہت بڑی شخصیت کے ساتھ تھا جنکا نام میں ظاہر نہیں کرونگا ، مجھے انہوں نے بتایا ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔ ان خرافات کا میڈیا بھی بھرپور ذمہ دار ہے۔ ہمارے وطن میںبہت ہی نچلے درجے کی تحقیقاتی صحافت ہے ، بس بیانات پر کام چل رہا ہے، یا کسی سیاست دان سے علیحدہ ملاقات جسے ون ٹو ون کہا جاتا ہے ، اب یہ ون ٹو ون میں صرف وہی بات بتائینگے جوان کا مقصد تک نا ہو۔ ملک میںہونےوالے سانحات پر سانحات کا کوئی فالو اپ نہیں ۔ سانحہ کی اطلاع بریکنگ نیوز کی شکل میں دے دی، دو دن ٹاک شوز کا مواد اکھٹا کیا اور پھر بغیر نتیجہ فائل بند اور اگلے سانحہ کا انتظار۔ گزشتہ سانحات کی طرح ”مچھ “کا سانحہ بھی گہرا زخم دے گیا لیکن ہم حسبِ سابق چند دن کے بعد یہ بھول جائیں گے کہ اِن سانحات کی وجوہات کیا ہیں۔ اِن کے پیچھے کون ہیں اور اُن کا تدراک کس طرح ممکن ہے گو کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے پولیس کو ٹھیک کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر کئی دیگر وعدوں کے پورے نہ ہونے میں ناکامی کی طرح پولیس میں تبدیلیوں کے باوجود یہ وعدہ بھی اپنے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا ۔ کبھی کراچی میں نوجوان قتل تو کبھی اسلام آباد میں ۔ایسے سنگین واقعات کے بعد بھی بات صرف نوٹس لینے، کمیٹیاں بنانے تک ہی محدود رہتی ہے۔ اگر وارداتوں یا قتل میںملوث ،عوام کی نگہداشت پر مامور پولیس یا دیگر ادارے ہی ہو ں تو پھر عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔اگر سانحہ ساہیوال ، سانحہ ماڈل ٹاؤن اور دیگر واقعات میںملوث ملزموں کو سخت سزائیں دی جاتیں تو آج یہ ناحق قتل نہ ہوتے ، کوئی جا کے ان ماؤں سے پوچھے جن کے بیٹوں کا چھلنی وجود ان کے سامنے بے سدھ خون میں نہایا ہوا پہنچا توان کے دل پر کیا بیتی ہو گی۔ ان ظالم اور درندہ صفت انسانوں کو کیا معلوما کہ ایک ماں کیسے اپنے بیٹے کو جوان کرتی ہے۔کبھی براہ راست قتل ، کبھی بچوںکے ساتھ زیادتی کے بعد قتل ، اور جب محافظ ہی قاتل بن جائیں تو عوام کس سے انصاف اور تحفظ کی امید رکھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام اپنی جگہ لیکن اس طرح کے واقعات عوام کے دلوں میں اپنے اداروں پر بد اعتمادی کا باعث بنتے ہیں۔یہ ظلم ناقابل برداشت اور ناقابل معافی ہے۔ہر جان قیمتی ہے اور ہر جان کا ضیاع ناقابل تلافی ہے۔ پولیس گردی کا یہ واقعہ نہ تو پہلا ہے اور نہ ہی آخری ہو گا۔ جب تک کسی ایک واقعے کو مثال بنا کے ملزموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا تب تک اس طرح کے سانحات جنم لیتے رہیں گے۔ ادھر ہماری نام نہاد حزب اختلاف لگتا ہے صرف اپنے مفادات کی لڑائی رہی ہے۔ انکی یہ لڑائی حکومت سے بھی اور آپس میں بھی ہے۔ ایسی حزب اختلاف حکومت تو کیا محلے کے بلدیاتی چیئرمین کوبھی نہیں ہٹا سکتی ۔ عوام جب نئے سا ل کی خوشیوں، کرونا وباءسے جان بچ جانے کی خوشیوںکی تمنا کرر ہے تھے کہ ایسے میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک دلخراش واقعے نے ساری قوم کو ہلا کے رکھ دیا۔تحقیقاتی نظام ناقص ہوچلا ہے چونکہ واردتوں کی تحقیق کرنے والوں کے اپنے بھی مفادات ہوتے ہیں اسلئے کوئی تحقیق اپنے انجام تک نہیںپہنچتی ۔پولیس اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور آخر کار اس کیس کو فریقین کی صلح کے بعد داخل دفتر کر دیا جاتا ہے ۔اسی طرح بلوچستان میں عبید طالب علم جس کا قلم اس کی بے گناہی کا ثبوت دے رہا تھا۔ کراچی رینجرز سے ہلاک ہوا نوجوان سرفراز، اے ٹی ایم مشین سے چوری کرنے والا نفسیاتی مریض صلاح الدین اور جانے کتنے اور جن کی اطلاع ہم تک پہنچتی نہیں یا جنہیں تاریک راہوں میں مار دیا جاتا ہے اور کوئی گواہ، ثبوت نہیں ملتا ان کی بے گناہی کو ثابت کرنے کے لئے اگر ان واقعات میں ملوث لوگوںکو سزائیںدی جائیںتو یہ واقعات اس قوم کو دوبارہ اس روانی سے دیکھنا نہ پڑیں، ماﺅںکی گود سونی نہ ہو ، کوئی بہن اپنے بھائی کیلئے آنسوں نہ بہائے ۔