رسوائی جو ٹرمپ کا مقدر ٹھہری!

صدر ٹرمپ جاتے جاتے امریکی جمہوریت کو رسوا کر گئے‘ مگر یہ کچھ بھی نہیں۔ جس افتاد طبع کا وہ آدمی ہے اس سے کسی بد ترین فعل کی توقع تھی۔ دانائی، بینائی اور استدلال سے خالی شخص، جو بد قسمتی سے دولت کے جادوئی گھوڑے پر سوار ہو کر وائٹ ہائوس پہنچ گیا تھا۔ اس نے جانے سے پہلے کوئی گل تو کھلانا تھا۔ تاریخ ٹرمپ کو امریکہ کے ناکام ترین صدر اور امریکی جمہوریت کے ماتھے پر ایک کلنک کے ٹیکے کے طور پر یاد رکھے گی۔ انہوں نے صرف دو ‘کامیابیاں‘ حاصل کیں: ایک اپنی رسوائی اور دوسری صدارتی عہدے کی تحقیر۔ وائٹ ہائوس نے تاریخ میں ایسا مکین کبھی نہیں دیکھا تھا، اور امریکی اگر تاریخ سے کچھ سبق سیکھیں تو شاید دوبارہ کبھی نہ دیکھیں۔ جو دھبہ امریکی جمہوریت پر لگ چکا اسے دھلنے میں وقت لگے گا۔ اس کے لئے شاید کئی دہائیاں درکار ہوں۔ صورت حال یہ ہے کہ امریکی صدر کے حامیوں کی جانب سے پارلیمنٹ پر حملے اور اس پر ٹرمپ کے رد عمل کے بعد وائٹ ہاؤس سے استعفوں کی لائن لگ گئی ہے اور صدر ٹرمپ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے حالانکہ اس عہدے پر ان کی میعاد کے محض چند ہی روز باقی بچے ہیں۔ یہ مطالبہ کرنے والوں میں سے بہت سوں کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے؛ تاہم بہت سے ری پبلکن اراکین بھی اس مطالبے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق امریکی سیاست دان شومر کہتے ہیں کہ صدر کو اپنے دفتر کو مزید نہیں سنبھالنا چاہیے۔ شومر سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو لیڈ کر رہے ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی کابینہ پر زور دیا کہ وہ 25ویں آئینی ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا دے۔ یاد رہے کہ امریکی قانون میں موجود یہ ترمیم نائب صدر کو یہ اختیار دیتی ہے کہ اگر صدر اپنے فرائض سرانجام نہ دے سکیں‘ کسی ذہنی یا پھر جسمانی بیماری کی وجہ سے تو وہ ان کی جگہ اس عہدے پر کام کر سکتے ہیں۔
یوں امریکہ اس وقت گہرے سیاسی بحرانوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس بحران کی متعدد جہتیں ہیں۔ امریکہ کے سیاسی اداروں کا کیا کردار ہے۔ سیاست دانوں کا طرز عمل اور طرز سیاست کیا ہے۔ سیاست میں سرگرم لوگوں کا انسانی کردار کیسا ہے۔ اخلاقیات اور ذمہ داریوں کو کیا سمجھا جاتا ہے‘ اور ان کو کتنا وزن دیا جاتا ہے۔ اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایک پریشان کن مستقبل امریکی لوگوں کا منتظر نظر آ رہا ہے۔ امریکی جمہوریت کا موجودہ خاکہ اور اس خاکے پر غور کا ایک لمحہ، تباہ کن سیاسی نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ صدارتی انتخابات کے بعد پُر امن انتقالِ اقتدار کے تصور کو جو دھچکا لگا‘ اس کے اثرات دنیا کے کئی ممالک تک دکھائی دیں گے۔
اس سال جنوری کے تیسرے دن امریکی ذرائع ابلاغ نے صدر ٹرمپ کی ریاست جارجیا کے سیکرٹری کے ساتھ گفتگو کی ایک گھنٹہ طویل آڈیو ٹیپ نشر کی تھی۔ اس گفتگو میں صدر ٹرمپ فتح کے لئے صرف 11780ووٹ کی تلاش میں تھے، اور انہوں نے تحکمانہ لہجے میں سرکاری اہلکار کو یہ ووٹ تلاش کرنے کو کہا تھا۔ یہ دماغ کی چولیں ہلا دینے والی گفتگو تھی۔ ردِ عمل بھی کچھ کم نہ تھا۔ کارل برنسٹین اور دیگر امریکی میڈیا تجزیہ کاروں نے ٹرمپ سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ٹرمپ کی اس عجیب و غریب حرکت کو صدارتی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی ایک سیاسی سازش قرار دیا۔ کچھ دوسرے لوگوں نے اسے ”بم شیل‘‘ اور امریکی جمہوریت کے خلاف جرم قرار دیا۔ ان کے نزدیک یہ سکینڈل تھا، جو صدر نکسن کے ”واٹر گیٹ‘‘سے بھی بڑا تھا۔
یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ اس وقت امریکی لبرل ڈیموکریسی ”آن ٹرائل‘‘ ہے‘ یا یوں کہنا چاہیے کہ امریکہ میں نیو لبرل ازم پر مقدمہ چل رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دوسری ریاستوں میں فتح کا دعویٰ کیا ہے اور ہارے ہوئے انتخابات کو ”چوری شدہ انتخابات‘‘ قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں براجمان یہ شخص اس وقت ایک انتہائی متنازع شبیہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ طاقت سے چمٹے رہنے کی بے پناہ ہوس اس کے ناقابل فہم دعووں کا مرکز ہے۔ یہ عمل جدید امریکی تاریخ میں عدم استحکام کے عنصر کی حیثیت سے اقتدار کی منظم اور پُر امن منتقلی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے حالانکہ اقتدار کی پُر امن منتقلی جمہوریت کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔
بریڈ فارسنپرگر صدر ٹرمپ سے فون پر گفتگو کے دوران ان کے غیر منطقی مطالبے کو قبول کرنے کے لئے راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے انتخابی توثیق کے عمل اور اس کے جائز نتائج کو درست قرار دینے پر اصرار کیا‘ لیکن ٹرمپ نے امریکی جمہوری نظام کے اصولوں کو خراب کرنے کے لئے اخلاقی اور فکری طور پر انتشار آمیز اور شر انگیز ہتھکنڈوں کا استعمال جاری رکھا۔ اس کے بعد جو کچھ کیپیٹل ہل میں ہوا، یہ جمہوریت کے منہ پر طمانچہ تھا۔ یہ ایک قسم کی سیاسی بدمعاشی ہے‘ لیکن بات یہ ہے کہ کوئی بھی امریکی عدالت یا ٹریبونل سیاسی بدمعاشی کے خلاف مقدمہ نہیں چلا سکتا، جو امریکی جمہوریت کے خلاف کی گئی ہے حالانکہ یہ جدید امریکی تاریخ میں ایک انوکھا اور تباہ کن اقدام ہے۔
اس وقت امریکہ ایک سیاسی دلدل بن چکا ہے۔ اس سیاسی دلدل کو دنیا حیرت انگیز تجسس کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ عالمی برادری کو حیرت ہو رہی ہے کہ امریکہ اور اس کی لبرل جمہوریت کی ساکھ کس طرح نا قابل تصور تبدیلی اور مستقبل کی نسلوں کے لئے غیر متوقع امکان کا شکار ہوئی ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ جمہوریت سے متعلق امریکی نصابی کتب ”کامن سینس‘‘اور عقلی تفہیم سے باہر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت امریکہ جذباتی اور دانش ورانہ زوال پذیری کا شکار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی دونوں بالغ، لچک دار، دانش ورانہ اور اخلاقی طور پر با ضمیر اور غیر متزلزل رویے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاکہ یہ امر یقینی بنایا جا سکے کہ امریکی طرز حکمرانی اپنا کام کر رہا ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کی قیادت میں ری پبلکن قیادت گمراہ کن بیانات کا شکار ہے، اور دانشورانہ طور پر تھک گئی ہے۔ تمام 50 ریاستوں اور علاقوں نے بائیڈن کے فاتح ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کانگریس اس کی توثیق کر چکی ہے۔ اس کے باوجود بائیڈن کی فتح تسلیم کرنے میں صدر ٹرمپ کی ناکامی آنکھوں پر پٹی بندھے اس شخص کی سی تھی، جو ایسے لوگوں کی قیادت کر رہا تھا، جن کی آنکھوں پر بھی پٹی بندھی ہے اور یہ سیاسی طور پر گمراہ کن مہم جوئی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
امریکہ اس وقت سیاسی انتشار کا شکار ہے اور اس کو اخلاقی اور فکری قیادت کی اشد ضرورت ہے۔ مشکلات اور بحرانوں کے حالات میں قائدین خود اعتمادی کا اظہار کرتے ہیں، اور تبدیلی کے لئے امید پسندی کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر اس وقت یہاں انا پسندی کے ایجنڈے اور اشتعال انگیزی کا دور دورہ ہے۔ صدر ٹرمپ امریکی سیاسی حکمرانی کے حال اور مستقبل کو بگاڑنے کے لئے ایک یقینی طور پر شدید سیاسی سازش پر عمل پیرا ہیں۔ ٹرمپ ایک جنگجو ہے جس کی حقیقی دانش مندی اور سیاسی شعور‘ دونوں دھندلا چکے ہیں۔
آرنلڈ ٹنبی اپنی مشہور تخلیق ”تاریخ کا مطالعہ‘‘ میں جنگجو لوگوں کو اخلاقی اور فکری تخیل سے مبرا خواب دیکھنے والے قرار دیتے ہیں۔ جب ایسے لوگ پھنس جاتے ہیں، تو وہ زندگی کے حقائق کے بارے میں غیر معقول مظاہر اور نتائج نکالنا شروع ہو جاتے ہیں۔ غلط لوگ جب غلط سوچ سے چمٹے ہوں تو وہ لوگوں کے مفادات اور تاریخ کے عقلی احساس کے بغیر کام کرتے ہیں۔ ٹرمپ امریکی عوام اور عالمی برادری کے مفادات کو دانش مندانہ انداز میں دیکھنے میں ناکام رہے ہیں‘ اور جاتے جاتے ذلت، رسوائی اور جگ ہنسائی ان کا مقدر ٹھہری ہے۔