یہ کھیل ہے صبر کا

پی ڈی ایم والے سارے بیوقوف نہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت بخوبی سمجھتی ہے کہ جس راستے پہ مولانا فضل الرحمن انہیں لے کے جانا چاہتے ہیں وہ نقصان اور بربادی کا راستہ ہے۔ مولانا اور نوازشریف بھی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں لیکن اُن کے دل بھرے پڑے ہیں اور ان جلے دلوں کی وجہ سے وہ سیاسی انتشار کے خواہاں ہیں۔ نون لیگ میں بھی احتیاط کی تلقین کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن وہاں فیصلے نوازشریف اور اُن کی صاحبزادی کے ہیں۔
بحث یہاں یہ نہیں کہ انتشار اچھی چیز ہے یا بُری۔ سیاست ممکنات کا عمل ہے کہ کیا چیز ممکن ہے اورکیا نہیں۔ اگر آپ انتشار برپا کرسکتے ہیں، آپ میں اتنی صلاحیت ہے تو بھلے کیجیے۔ موجودہ وقت میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ملک گیر پیمانے پہ انتشار پیدا کرنے کی صلاحیت پی ڈی ایم میں نہیں ہے۔ خواہشا ت کے گھوڑے جو بھی ہوں انہیں کون روک سکتاہے لیکن خواہشات پہ کہاں سیاست چلتی ہے۔ جلسے تو ہر کوئی کراسکتا ہے۔ پی ڈی ایم نے بھی جلسے کیے ہیں، کچھ بھرپور ایک دو شاید بھرپور سے کم۔ اگریہ صورتحال ہے تو ملک گیر پیمانے پر افراتفری پیدا کرنے کی صلاحیت کہاں سے آئے گی؟ اوربغیر اُس قسم کے انتشار کے، عمران خان کو چھوڑئیے، کوئی حکومت بھی گھر نہیں جاتی۔ بڑھکوں سے تو بالکل بھی نہیں۔
یہ سادہ سی بات ہے اوراس میں کوئی لمبے چوڑے فلسفے کا دخل نہیں لیکن مولانااور نوازشریف غصے سے اتنے بھر ے ہوئے ہیںکہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ موجودہ حالات میں وہ بیکار کا شور مچارہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی نہیں کہ عمران خان کی حکومت اچھی ہے یا بُری۔ وہ کتنی نکمی بھی ہو پی ڈی ایم والوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں جس سے یہ حکومت گھر چلی جائے۔
جلسوں سے آگے بات پی ڈی ایم بڑھا نہیں سکی۔ یہ سوال پوچھ کے اب ہنسی آجاتی ہے کہ استعفے کہاں گئے۔ پہلے دن سے یہ عیاں تھاکہ پیپلزپارٹی والے اتنے کم عقل نہیں کہ مولانا کی باتوں میں آکے استعفے دے ماریں اور سندھ کی حکمرانی سے اپنے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ آصف زرداری تو ہیں ہی سیانے‘ اُن کی بات نہ بھی کی جائے‘ پیپلزپارٹی میں کسی ایک منتخب رکن کا نام تو لیاجائے جو استعفوں کے حق میں ہو لیکن مولانا نے اپنے آپ کو اتنا عقلمند سمجھا ہواہے کہ ہر کوئی اُن کی باتوں میں آ جائے گا۔ حکومت کو پریشر میں رکھنا اوربات ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کوایسا کرنا چاہیے۔ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے۔ جہاں کسی بھی قسم کی جمہوریت ہو وہاں ایسا چلتا ہے۔ دستورِ سیاست یہی ہے‘ لیکن یہ کس نے کہاکہ آپ اپنے اہداف اتنے بڑے رکھیں کہ انہیں حاصل کرنا ممکن ہی نہ ہو؟ جو حکومت ہٹانے کے نعرے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے لگائے جارہے ہیں اُن کا شمار ناممکنات میں ہوتا ہے۔
آصف زرداری صورتحال کو سمجھتے ہیں۔ شہبازشریف بھی ان حقیقتوں سے آشنا ہیں۔ نوازشریف اورمولانا سمجھتے توہوں گے لیکن عقل کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اگر وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت گرائی جاسکتی ہے تو پھر جان بوجھ کے انہوں نے آنکھوں پہ پردے ڈال رکھے ہیں۔ قوم کنفیوز نہیں۔ عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک بیکارکی مہم جوئی ہے‘ لیکن آدھا میڈیا کنفیوژن کا شکار ہے اورپی ڈی ایم کی تحریک کو اس زاویے سے لے رہا ہے جیسے کہ اس میں واقعی دَم خَم ہے۔ میڈیا کے لاؤڈ سپیکر پی ڈی ایم کی آوازوں کو بڑھا چڑھا کے نہ پیش کررہے ہوں تو جتنا زور موجودہ تحریک میں نظر آتاہے وہ بھی نہ رہے۔
بُرے یا اچھے، یہ الگ بحث ہے، عمران خان کہیں نہیں جا رہے۔ ناں ناں کہتے ہوئے بھی ان کی حکومت ڈھائی سال گزار چکی ہے۔ آنکھ جھپکنے میں اگلے ڈھائی سال بھی گزر جائیں گے۔ تب کی تیاری اپوزیشن جماعتیں کریں۔ میدان بھی ہو گا گھوڑے بھی تیار ہوں گے۔ تب اپنا زور اور قسمت آزمائیں‘ لیکن جس استاد نے بھی یہ سبق دیا ہے کہ بیچ منجدھار کے حکومت کو فارغ کیا جاسکتا ہے‘ اس نے غلط سبق سکھایا ہے۔ وقت سے پہلے کوئی چیز شروع کرنا ویسے ہی حماقت ہے۔ جلسے کراکے پی ڈی ایم والوں کا آدھا دَم تو نکل چکا ہے۔ لانگ مارچ وغیرہ کی خواہش کسی کو نہیں۔ لانگ مارچ کے شوشے کی حماقت کی بھی گئی تو اُس میں کوئی دَم نہ ہو گا۔ پارٹیاں مزید تھکاوٹ کا شکار ہوں گی‘ لیکن جہاں دل بھرے ہوں وہاں عقل اور منطق کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ یہ حال نوازشریف اور مولانا کا ہے۔
نیا سال‘ جس کا ابھی آغاز ہوا ہے‘ دونوں لیڈران‘ نوازشریف اور مولانا پہ بھاری گزرے گا۔ اس لیے کہ جو خواہشات پالی گئی ہیں اُن کا پورا ہونا ناممکن ہے۔ موجودہ حکومت نے تو اب ٹِک کے کھیلنا شروع کیا ہے۔ نیب کے مقدمات کہیں نہیں جا رہے اور جن کو اِن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اُنہیں اس امتحان سے گزرنا ہی ہے۔ یہ تو خام خیالی ہے کہ کوئی سوچے کہ کسی سیاسی مصلحت کے تحت یہ مقدمات ختم ہو سکتے ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم نے تو ایسا کرنا نہیں‘ لہٰذا نون لیگ اور مولانا کیلئے یہ اُن کے صبر کا امتحان ہے۔ موجودہ صورتحال سے نجات اگلے الیکشن کی صورت میں ہی مل سکتی ہے، وہ بھی تب کہ الیکشن کا ماحول اِن کے لئے سازگار ثابت ہو۔
عسکری عہدیداروں کا نام لے کے نواز شریف سے ایک اور حماقت سرزد ہوئی۔ یہ عہدیدار کہیں جا رہے ہوں پھر تو بات بنتی ہے لیکن رہنا انہوں نے ہی ہے تو یہ کہاں کی عقلمندی بنتی ہے کہ اُن کے نام لے لے کے آپ لندن میں بیٹھ کے تقریریں جھاڑیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ آبیل مجھے مار، ایک ایسی روش جس سے اپنی پوری سیاسی زندگی میں نوازشریف چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے۔ ڈان لیکس بھی ایک ایسی ہی حماقت تھی۔ کوئی ضرورت نہ تھی خبر چھاپنے کی لیکن اِن سے نہ رہا گیا اور متعلقہ صحافی کو بُلا کے یہ خبر فیڈ کی گئی۔ کوئی پوچھے تو سہی کہ ایسی حرکت کرنے کا مقصد کیا تھا؟ آپ حاصل کیا کرنا چاہتے تھے؟ سوائے وَقتی تسکین کے اور کچھ بھی نہیں۔ اورپھر نوازشریف کو اِس حرکت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ اَب کہتے ہیں‘ ہمارا مزاحمت کا بیانیہ ہے۔ یہ کہاں کا بیانیہ ہے کہ تیر کہیں اور اُڑ رہا ہو اور آپ نے چھلانگ لگا کے اُسے ضرور پکڑنا ہے۔ بم سڑک کے ایک کنارے پہ پڑا ہے لیکن آپ نے اُسے ٹھڈا ضرور مارنا ہے۔ پھر آپ کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا پڑی تو آپ چیخ اُٹھیں کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں دَخل اندازی کررہی ہے۔ تین بار کے وزیر اعظم پہ لازم نہیں ٹھہرتا کہ وہ حتی الامکان ایسے مواقع پیدا ہی نہ ہونے دے جس سے مداخلت کا خطرہ نکلتا ہو؟ سیاست کو مضبوط کریں پھر اسٹیبلشمنٹ کو تابع لانے کی کوشش کریں۔
بینظیر بھٹو جب دوسری بار وزیراعظم بنیں تو نوازشریف نے اُن کے خلاف تحریک چلانے کی کوشش کی۔ ٹرین مارچ وغیرہ کیا لیکن سوائے اس کے کہ نون لیگ کے ورکر تھک گئے اُن کوششوں سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ نوازشریف کے ہاتھ موقع تب آیا جب صدر فاروق لغاری اور بینظیر بھٹو میں ٹھن گئی۔ پھر مختلف سیاسی لیڈروں کے ذریعے صدر لغاری سے رابطے قائم کئے گئے اور انہیں اس بات پہ اُکسایا گیا کہ وہ بینظیر بھٹو کی چھٹی کریں۔ موجودہ صورتحال یکسر مختلف ہے۔ یہاں نہ کوئی غلام اسحاق خان ہے نہ فاروق لغاری۔ عمران خان ہیں اور مخصوص اداروں کے وہ عہدیدار جن پہ نواز شریف آوازیں کَس رہے ہیں۔ اس سارے روّیے کو کوئی سیاسی عقلمندی کا نام دے گا؟
نوازشریف اپنی باری کھیل چکے۔ اُن کا اختیار ہے‘ جس کو بھی جانشین بنائیں‘ لیکن جو موجودہ حالات کا بہتر ادراک رکھتا ہے وہ شہباز شریف ہیں‘ لیکن شہباز شریف کو آگے کس نے آنے دینا ہے؟