کنفیوژن دونوں ہی جانب ہے، عوام رل رہے ہیں

سیاسی تجزیہ نگاروںکا کہنا ہے کے پاکستان میں حزب اختلاف اور حکومت مقابلے میں آخری لمحات میںہے ، مگر میری نہائت ناقص سوچ کہتی ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ، حکومت اتنے مضبوط ہاتھوں میں ہے کہ فی الحال جانے کا کوئی امکان نہیں یہ مضبوط ہاتھ تحریک انصاف یا اتحادی جماعتوں کے نہیں بلکہ ”اتحادیوں “ کے ہیں دراصل جب کہیں بھانت بھانت کے لوگ کہیں جمع ہوجائیں تو انکی اپنی اپنی بولیاںہوتی ہیں جسکی سنوائی کہیں نہیں ہوتی ۔ حزب اختلاف میں مختلف نظریات ہی نہیںبلکہ کئی اہم امور پر مختلف الخیال لوگ موجود ہیںیہ کوئی انتخابی اتحاد بننے سے قاصر ہے، جس وقت بھی ملک میں انتخابات ہوئے تو ”جوتیوں میں دال بٹے گی“ابھی حزب اختلاف کی تحریک نے ماسوائے جلسوں کے اپنی تحریک میں اگلا قدم بھی نہیں رکھا ’آوازیں آنے لگی ہیں، یہ حال حکومت کا بھی ہے وہاںبھی تمام حکومتی اتحادی جماعتوںکی ایک سوچ نہیں یہ وجہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں صرف تحریک انصاف کو ہی ٹارگیٹ کئے ہوئے ہیں چونکہ بقیہ جماعتیں جو حکومت میں شامل ہیں وہ تو ہر آنے والی حکومت کا حصہ بننے میںدیر لگانا وقت کا نقصان تصور کرتی ہیں، یہ وجہ ہے حزب اختلاف کے مقابلے لئے خود وزیر اعظم عمران خان ، انکے جماعت کے وزراء، انکے مشیران کی فوج ظفر موج، یہاں تک کہ صوبائی مشیران بھی overtime پر وفاقی مشیر کا کام دے رہے ہیں اور حزب اختلاف کے متعلق اپنے بیانئے پر قائم ہیںحکومتی مشیران کی اپنی حکومت ، اپنی جماعت سے زیادہ حزب اختلاف کی جماعتوں پر توجہ مرکوز ہے انکے ہر بیان پر جوابی بیان کے ساتھ ہمہ وقت حاضر رہتے ہیں،یہاں تک کہ اگر حزب اختلاف کے جلسے میں کوئی حزب اختلاف کی قیادت دیر سے پہنچے یا کسی وجہ سے نہ پہنچ سکے تو اسکی پریشانی حزب اختلاف کو کم مشیران حکومت کو ذیادہ ہوتی ہے اور فوری میڈیا پر آکر عوام کو آگاہ کرتے ہیں دوسری طرف یہ بیانیہ اپنی جگہ کہ عوام نے چور ، لیٹروں، پر مشتمل حزب اختلاف کو ٹھکرا دیا ہے ،سیاسی جماعتیں تضادات کا ہمیشہ شکار رہتی ہیں، مخالفت میں ایک دوسرے کے خلاف تمام حدوںکو پار کردیتی ہیں ، اگر کوئی باعزت لوگ ہوں تو ایک دوسرے کو منہ بھی نہ دکھائیں مگرآفرین ہے ان پر کہ جب اپنے مفادات کیلئے ملنا ہوتا ہے تو فوری محبتیں جاگ جاتی ہیں ، اسکا مظاہرہ گزشتہ دنوں اسلامی دنیا کی پہلی خاتو ن وزیر اعظم شہید بے نظیر کی 13ویںبرسی پر لاڑکانہ میںلوگوں نے دیکھا ، یہ بھٹو خاندان کی ایک بڑی کامیابی تھی کہ جو لوگ عورت کی حکمرانی کے خلاف تھے ، جو ایک دوسرے کو سڑک پر گھسیٹنے کی تمنا رکھتے تھے وہ سب بی بی شہیدکر لحد پر پھولوں کی چادر چڑھا ر ہے تھے ۔ برسی کا جلسہ تھا تو عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اُن کی قومی خدمات کی تحسین کے لئے مگر توقع کے عین مطابق اُسے پی ٹی آئی حکومت کی ناکامیاں گنوانے اور اُسے چلتا کرنے کے لئے پُرجوش تقریروں کے موقع میں تبدیل کردیا گیا۔ حکومت مخالف تحریک پی ڈی ایم کے رہنماﺅں نے خوب دل کی بھڑاس نکالی اور برسراقتدار طبقے کی کمزوریوں کو اچھالا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں اِس الٹی میٹم کا اعادہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے 31جنوری تک استعفیٰ نہ دیا تو اپوزیشن ملک کے کونے کونے سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرے گی۔ سابق صدر آصف زرداری نے وڈیو لنک پر عوام کے جمِ غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو حکومت سے نکالنے کے لئے جیلیں بھرنا ہوں گی۔ اِس مقصد کے لئے اُنہوں نے پی ڈی ایم کو اپنی سوچ بدلنے کا مشورہ بھی دیا انکی اس بات کا واضح مطلب یہ ہی ہے کہ آصف ذرداری پی ڈی ایم کی حالیہ پالیسیوںکے حامی نہیں ۔
حزب اختلاف کی موجودہ ناکافی کوششوں ، فیصلوںمیں ہم آہنگی کا نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کہیں نہیں جارہی ، یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پہلے فیصلہ ہوا کہ سینٹ کا انتخاب نہیںہونے دیاجائے گی اس سے قبل استعفیٰ ہونگے اور تحریک کو عروج حاصل ہوگا ۔ مگر پی پی پی جس نے پہلے بھی سینٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت کا بازار لگایا تھا، دوسری جانب ہر حکومت کا حق بنتا ہے کہ وہ بھی اپنے نمائندوںکو کامیاب کرائے اب چونکہ جہانگیر ترین والا معاملہ نہیں اسلئے حکومت کے اور بہت سے ذرائع ہیںہوتے ہیں جن میں وزارت وغیرہ کی غیر اعلانیہ رشوت ہوتی ہے ، جس وجہ سے حکومتی امیدوار کی کامیابی کے روشن امکانات ہوتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان ناراض ، اور اب وہ پی پی پی کے واضح فیصلے کے بعد بہت ہی ناراض کہ پی پی پی نے بھر پور انداز میں سینٹ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دوکشتیوں میںسوا ر حزب اختلاف کیا تحریک چلا سکتی ہے ،؟؟ حکومت اور حزب اختلاف کی اس چپقلش میںعوامی مسائل گھمبیر ہوتے جارہے ہیںانکی جانب کسی کی توجہ نہیں اور عوام پس رہا ہے ، مہنگائی ، بے روزگاری ، امن و امان کا شکار معاشرہ بن چکا ہے جس کے ذمہ دار تمام ہی سیاست دان ہیںکوئی اس سے مبراءنہیں ۔حزب اختلاف اور حکومت دونوں ہیں confusion کا شکار محسوس ہورہی ہیں، ایکطر ف چور ، چور ، ڈاکو کی گردان، دوسری جانب سے خبر لندن سے آتی ہے کہ کوئی ملاقا ت ہورہی ہے ، ورنہ پاکستان میں تو ملاقات ہورہی ہے اور حکومت کے اعلان کردہ چور شہباز شریف سے تمام تر مخالفتوں کے باوجود بلاول ، اور محمد علی درانی جیل میں جہاں فیاض چوہان کا قبضہ ہے ملاقات اور مذاکرات کی نوید ، یہ پھر کسی کھیل کی طرف اشارہ کررہی ہیں جو اس ملک میں ستر سال سے زائد عرصے سے کھیلا جارہا ہے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گالم گلوچ اور الزام تراشی کا مقابلہ زوروں پر ہے۔ عوامی مسائل کم ہی زیر بحث آتے ہیں۔ حکومت معاشی اشاریوں کے درست ہونے کا ذکر کرتی ہے اور مہنگائی کے ”نوٹس“ بھی لیتی ہے مگر ساتھ ہی پیٹرول، گیس، بجلی اور بعض دوسری ضروری خدمات کے نرخ وقتاً فوقتاً بڑھا دیتی ہے۔ اپوزیشن مہنگائی پر تنقید تو کرتی ہے مگر اُس کا زیادہ زور حکومت کے خاتمے پر ہے۔ گویا پی ٹی آئی کی حکومت چلی گئی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اتنی تباہ حال معشیت میں آنے والوںکا یہ الزام ہوگا کہ خزانہ خانی ہے ، یہ بیانیہ پاکستان کا مستبقل بیانیہ ہے جمہوری طرزِ حکومت میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کا کردار یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ اپوزیشن حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور حکومت عوام کے مفاد میں اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرتی ہے۔ دونوں کا کام عوام کے مسائل حل کرنا ہے مگر یہاں اقتدار کے لئے رسہ کشی زیادہ ہونے سے عوام کے مصائب و مشکلات پر توجہ کم رہ جاتی ہے، گو حکومت اور اپوزیشن دونوں سسٹم کے فنا اور بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اور عوام زندہ درگور ہورہے ہیں