2020 عام الاموات خدا حافظ

قارئین!
ان سطور کی اشاعت تک 2020 کا سال اختتام کو پہنچ رہا ہوگا یا پہنچ چکا ہوگا۔میں نے زندگی میں بڑے نشیب و فراز ، اکھاڑ پچھاڑ، عروج و زوال، دکھ سکھ اور اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔اگر یوں کہوں کہ زندگی نام ہے مر مر کے جینے کا تو بھی کوئی مبالغہ نہیں۔تاہم زندگی کے ساتویں عشرے میں یعنی 2020 میں موت کے سیلاب نے ،قبرستانوں کی رونقوں نے، شہروں کی بے رونقی میں ،جنازوں کی بہتات نے اور مریضوں کی چیخ و پکار نے کلیجہ ہلا کے رکھ دیا ہے۔
2020 کے آغاز پر ایک امید افزا پیغام دیا تھا۔جسے سال بعد سن کر ہچکی سی بندھ گئی۔کسے معلوم تھا؟دکھی انسانیت موت کے سیلاب کی لپیٹ میں آ جائے گی۔روزگا بند ہو جائیں گے۔انسان انسان سے نفرت کرنے لگ جائے گا۔منہ ، ناک چھپانا پڑیں گے اور چہار سو عالم میں اداسیاں ہی اداسیاں چھا جائیں گی ۔ کرونا وائرس نے آبادیوں کا ہی لاک ڈاؤن نہیں کیا ۔تقدیر کا پہیہ بھی جام کر دیا۔
2020 غم و اندوہ ، رنج و الم، بدقسمتی و بے سکونی، کرب و ضرب اور داد و فریاد کا پیغام لے کر طلوع ہوا تھا۔اللہ کرے عام الاموات عام الحیات کی نوید دے کر رخصت ہو۔اسے میتوں کا سال کہیں؟ تکلیفوں کا سن کہیں؟اذیتوں کا حول کہیں؟ عام الاموات کہیں یا سنۃ الامراض کہیں ؟ اس سال نے انسانیت کی چولیں ہلا دیں۔قیامت صغریٰ کے مناظر سے بنی آدم کے دل دہل گئے۔سال بھر فضائیں سوگوار رہیں۔اس سال کی تقریبا ہر صبح پیاروں کی موت، فوت کا پیغام لے کر نمودار ہوئی۔اور ہر شب رنج و محن اور اضطراب شدید میں گزری۔زندگی کا پہلا سال تھا کہ جب فون دیکھا ! تو موت یا مرض کی خبر پر نظر پڑی۔بہت سارے پیارے ساتھ چھوڑ گئے۔دوست ، احباب، استاد، شاگرد، مؤفق، مخالف، اپنے ، پرائےصبح شام لقمہ اجل بنتے ہوئے دیکھے۔
زندگی کا یہ واحد سال تھا کہ ہمارا زیادہ وقت یا مردوں کی خدمت میں گزرا یا مریضوں کی خبر گیری میں۔کوویڈ 19 نے رشتوں ناطوں میں جدائیاں ڈال دیں۔عجیب مرض تھا کہ عیادت مریض کے ثواب سے محروم ہوئے۔جبکہ اکثر جگہوں پر غسل و کفن و دفن میں بھی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔بازار سنسان ہو گئے ۔حج و عمرہ و زیارات معطل ہو گئے۔جمعہ و جماعت میں ندرت آ گئی۔مساجد ، مکاتب، مدارس اور مراکز میں سنسانی چھا گئی۔ دعوتیں ناپید ہو گئیں۔ولیموں میں خاموشی چھا گئی۔معاشیات و اقصادیات پر خزاں چھا گئی۔سماجیات و عمرانیات اجڑ گئیں۔امارت کی جگہ غربت نے لے لی۔غنیٰ کی جگہ فقر آ گیا۔شاہراہوں پر ہو کا عالم چھا گیا۔نظام زندگی مفلوج ہو گیا۔کوئی سر پکڑے ہے تو کوئی سر جھکائے۔ کوئی کراہ رہا ہے تو کوئی چلا رہا ہے۔کوئی رو رہا ہے تو کوئی دھو رہا ہے۔غیر مرئی وائرس نے تاج اور راج اڑا دئیے۔ ترقی یافتہ ترین نظام سائنس اور ٹیکنالوجی بے بس ہو گیا۔کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ انسانیت پر ایسا وقت بھی آئے گا۔
ہم مانیں یا نہ مانیں ! اکثر انسان سر پر غرور کا تاج سجائے اپنی اوقات بھول گئے تھے۔ نظر نہ آنے والے وائرس کے سامنے اللہ نے تاج گرا کر انسان کو اوقات دکھا دی ہے۔ مچھر سے نمرود کی ہلاکت اور دریائے نیل میں فرعون کی ہلاکت ، اپنی بنائی ہوئی جنت کے دروازے پر شداد کی موت، سکندر اعظم کی کفن سے دونوں ہاتھ نکالنے کی وصیت ، ابابیلوں کے ذریعے ابرہہ کے لشکر کی تباہی، بنی اسرائیل کے عذاب، طوفان نوح کی سزا، بابل، اہرام مصر،زوال دقیانوس، مکافات اہل سبی،ہڑپہ موہنجوڈاڑو اور ٹیکسلا میں زمینوں کی الٹ پلٹ اور دنیا بھر میں آسمانی و زمینی سزاؤں کی تاریخ پڑھتے سنتے آئے تھے۔ایسے لگتا ہے 2020 میں تمام تھیوریز پریکٹیکل کی شکل میں نمودار ہوگئیں۔
2021 کے آغاز سے قبل یا آغاز پر ساری انسانیت کو چاہئے بلا تفریق مذہب و فرقہ اپنے خالق حقیقی سے گناہوں کی معافی اور نافرمانیوں پر عفو و درگزر طلب کریں۔جس طرح 2020 میں مذہبی ، سماجی، علاقائی ، ایام عید و ایام جشن سوگ میں گزر گئے۔ 2021 ایسا نہ ہوا۔2020 میں ایسے لگتا ہے کہ ہماری ساری متاع لٹ گئی اور ساری بساط لپٹ گئی۔محشر سے قبل محشر بپا ہو گیا۔قیامت سے پہلے قیامت آ گئی۔حشر سے قبل زندگی خود گناہوں کی سزا دینے لگی۔سابقہ امتوں پر جب عذاب آتے تھے۔تو انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔تاہم دور میں حاضر جو بچ گئے ہیں انہیں پھر بھی توبہ کا موقع میسر ہے جو کہ وہ حاصل نہیں کر رہے۔اگرچہ ویکسین دریافت ہو گئی ہے تاہم وہ کتنی مؤثر ہوتی ہے؟ اس کے سائیڈ افیکٹس کیا ہوتے ہیں۔کیا وائرس کلی ختم ہو گا یا نہیں ؟کیا فضائی ، زمینی، سمندری رونقیں بحال ہوں گی یا نہیں ؟ماسک ہٹیں گے یا نہیں ؟زندگی روٹین پر آئے گی یا نہیں؟یہ سب سوال ہیں جن کے جواب 2021 میں درکار ہیں۔
قارئین! اس مصیبت عظمی ٰ اور آفت عظیم سے ہم نے ہنوذ کوئی سبق نہیں سیکھا اور نہ ہی عبرت حاصل کی ہے۔ ورنہ اتنے بڑے ابتلا کے بعد ہر انسان کو منکسر المزاج اور بھلے مانس ہو جا نا چاہئے تھا۔اللہ کریم ہم سب کو جادہ ٔ ہدایت پر گامزن فرمائے اور 2021 اتنی ہی خوشیاں لے آئے جتنی اداسیاں بانٹ کر 2020 رخصت ہو رہا ہے۔
یا اللہ ! مصائب میں گھری ہوئی انسانیت اور امتحانوں کی چکیوں میں پستی ہوئی بنی نوع آدم کی رحم کی اپیل منظور فرما کر تکلیفوں کو راحتوں میں بدل دے اور دشواریوں کو آسائشوں میں تبدیل فرما دے۔آمین یا رب العالمین