یہ سب ملکر ہمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنارہے ہیں

پی ڈی ایم کا جلسہ کامیاب ہوا ؟؟ ، پی ڈی ایم کا جلسہ ناکام ہوگیا ؟؟ ،کچھ بھی ہوا۔ مشیران کی فوج ضرور مصروف ہوگئی۔ دروغ گوئی کا مقابلہ شروع ہوگیا ۔ اسکولوں میں حساب کے پرچے میں فیل ہونےوالے جلسے کی تعداد پر قیاس آرائیاں کرنے لگے۔ سب سے تعلیم یافتہ قیاس آرائی مرکز سے تنزلی پاکر صوبے کی مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب بننے والی محترمہ کا تھا جو انہوں نے ملتان کے جلسے کو 300 افراد کا جلسہ قرار دیا تھا ۔ اس مردم شماری کے بعد تو انکی بات تو ۔۔۔۔ چھوڑےں رہنے دیں ۔ دوسرے مشیر جنکا تعلق تعلیم یافتہ گھرانے سے مگر انکے مرحوم والد پاکستان کے عظیم اور دلپسندشاعر کی عزت و احترام کی بناءپرانہیں معاف کردیا جاتا ہے اور صرف افسوس ہی ہوتا ہے کہ اگر جلسہ ناکام ہوگیا تو خوشی کی بات ہے حکومت کیلئے مگر مشیران اور وزیر اعظم از خود کیوں ان بقول انکے ”جلسیوں “ کو ذہن پر سوار کرچکے تھے ۔ شائد جسطرح حکومت کہتی ہے کہ حزب اختلا ف کو عوام ٹھکرا چکے ہیں توپھر پریشانی کیوں ؟؟۔ میڈیا پر مشیران کی آمد و رفت سے ایسا لگا کہ جلسہ چونکہ ناکام ہے اس لیے اسے یہ تمام مشیران ملکر کامیاب کرانا چاہتے ہیں۔ ایک طرف تحریک انصاف کی ”ٹائیگر فورس “ جلسہ ناکام ہونے کیلئے دعا گو تھے تو دوسری جانب وزیر اعظم جنکے پاس اب شیرو ہی نہیں ٹائیگر بھی ہے ، وہ ٹائیگر کو کھانا کھلا کر موسم سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔ لیکن اس تمام بھاگ دوڑ میں کچھ تو ہے ، وہ ٹیلفون کونسے ہیں جنکا ذکر بلاول نے کیا ؟؟۔ وہ کیا صورتحال ہے کہ شہباز شریف کو جیل میں ملنے کیلئے پی پی پی کا پورا وفد گیا۔ وزیر جیل خانہ جات جو خواب میں بھی پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) اور شہباز شریف کیلئے کہے جانے والے الفاظ کو دہراتے ہیں انکے زیر اثر جیل میں یہ ملاقات کیوں اور کس لئے تین گھنٹے جاری رہی ؟؟۔ فیس بک پر کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون کا کلپ آتا تھاجس میں پی پی پی کے زمانے میں وہ خاتون کہتی تھیں کہ ”یہ سب ملکر ہمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بنارہے ہیں “۔ نیز ایک مجلس پڑھنے والے ذاکر لڈن میاں کا وہ کلپ جس میں وہ کہتے ہیں ”یہ تو ہوگا “ ۔تو لگ رہا ہے کہ خاتون کی بات بھی صحیح تھی اور لڈن میاںکی بھی، اسلئے حالات یوں ہیں کہ کچھ تو ہوگا ؟؟ ورنہ شہباز شریف کی والدہ کی تعزیت کیلئے جیل جاکر ان سے تعزیت کرنا سمجھ سے بالا تر ہے اور یہ اجازت بھی کسی بالا تر سے آئی لگتی ہے۔ ملکی سیاست میں افہام و تفہیم، تحمل، رواداری اور برداشت کی جگہ اشتعال انگیزی مبازرت طلبی اور ایک دوسرے کی توہین و تضحیک کی جو روایت چل پڑی ہے۔ اُس کا فائدہ کس کو ہوگا اور کس کو نقصان؟۔ اِس بارے میں کچھ کہنا مشکل بھی ہے اور قبل از وقت بھی لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ جمہوریت کیلئے یقیناً کوئی نیک فال نہیں۔ اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن اِس لئے کہا جاتا ہے کہ اِس میں خیر کے پہلو غالب ہیں۔ جب دو فریق نیک نیتی سے بحث و تمحیص کے ذریعے مفاہمت کی راہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو کوئی معاملہ ایسا نہیں جسے یکسو نہ کیا جا سکے ۔لیکن پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی رہی ہے۔ 2018کے قومی انتخابات کے دھاندلی زدہ ہونے کے بارے میں جس سیاسی تنازع نے جنم لیا ایسا لگتا ہے کہ وہ روز بروز مفاہمت کی بجائے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے جو جمہوریت کے حق میں ہے اور نہ ملک وقوم کے مفاد میں۔ حکومت اور اپوزیشن کے پی ڈی ایم اتحاد نے اِس معاملے میں سخت گیر موقف اپنا رکھا ہے۔ پی ڈی ایم نے 13دسمبر کو اپنی احتجاجی تحریک کا جو آخری جلسہ مینار پاکستان کے گراﺅنڈ میں کیا اُس میں اعلان کر دیا ہے کہ حکومت سے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوں گے، اس کی بجائے جنوری کے اواخر یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ ہوگا، پارلیمنٹ سے استعفے بھی ساتھ ہوں گے۔ یہ تو پکی بات ہے کہ اندرون خانہ معاملات کچھ بھی ہوں آنے والا سینیٹ الیکشن موضوع ضرور ہے۔ چونکہ ہر سینٹ کے انتخاب سے قبل ”بھاگ دوڑ “ضرور ہوتی ہے ۔ گذشتہ سینیٹ انتخابات میں تو اندرون خانہ ”مک مکا “ہوگیا تھا اور عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ان اراکین کو ڈھونڈتے رہے جنہوںنے پارٹی کی منشاءکے خلاف ووٹ استعمال کیا تھا ۔ معاملات جو بھی ہوں حکومت جانے کا کوئی اشارہ نہیں اور حکومتیں اسطرح جاتی بھی نہیں ۔تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے سے کچھ نہ ہوا ماسوائے دن کو خاموشی ، رات کو تقاریر اور رقص ،وہ تو بھلاہو جب ایمپائر کی انگلی نہ اٹھی تو تحریک کی باگ ڈور اسوقت کے چیف جسٹس نے سنبھال کر نواز شریف کو گھر بھیجا ۔ محلاتی سازشوںمیں روز کی روٹی کمانے والے معصوم لوگوںکو کیوںبے وقوف بنایا جاتا ہے ؟؟ ۔کچھ ہنگامہ ہوا تو اسکا نشانہ بھی یہ ہی معصوم لوگ بنتے ہیں،انکی کوششوں اور قربانیوںسے نئی حکومت کی راہ ہموار ہوتی ہے اور کچھ دن بعد وہ معصوم عوام جو سنہرے خواب لئے ہوتی ہے اسی تنخواہ پر کام کرنے لگتی ہے ۔